شام میں داعش کے عقوبتی و حراستی مراکز کے بارے میں نئے انکشافات

یرغمال بنائے گئے تاوان کے بدلے چھوڑے جاتے یا پھر انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے شام میں عقوبتی مراکز اور واقعات کے بارے میں کچھ مزید تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔

یہ تفصیلات ان افراد کے بارے میں ہیں جنہیں داعش نے کسی وقت یرغمال بنایا، اغوا کیا یا پھر قتل کر کے قبروں میں پھینک دیا۔ یہ بات 'سیرین جسٹس اینڈ اکاونٹبلٹی سنٹر (ایس جے اے سی ) نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔

ایس جے اے سی کا کہنا ہے کہ اس نے داعش کی بنائی ہوئی ایسی سات جگہوں کا ٹھیک ٹھیک پتہ چلا لیا ہے جو داعش یرغمال بنائے گئے یا اغوا کیے گئے افراد کو قید کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی۔

ان میں ممکنہ طور پر تین ایس جگہیں جو یرغمالیوں کے قتل کے بعد قبروں کے لیے مقرر تھیں۔ امریکی حقوق گروپ نے یہ معلومات امریکی عدالت میں داعش کے ایسے ارکان کے سلسلے میں کارروائی کے دوران جمع کی ہیں جو داعش ممبر یرغمالی کارروائیوں اور یرغمالیوں کے قتل کے حوالے سے بہت مشہور تھا۔ شام میں اسے ’بیٹلز‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ ایک چار رکنی سیل تھا۔ اسے یہاں قید رہنے والوں نے انگریزی کے اپنے برطانوی لہجے میں پاپ بینڈ کا نام دے رکھا تھا۔ 2012 سے 2015 تک اس جگہ پر کم ازکم 27 افراد کو بند رکھا گیا۔

ان میں سے ایسے یرغمالیوں کو چھوڑ دیا گیا، جن کے ملکوں نے تاوان کی رقم ادا کر دی تھی۔ ان تاوان ادا کرنے والے ملکوں میں امریکہ، ڈنمارک، فرانس، جاپان، ناروے اور سپین بھی شامل تھے۔ جن یرغمالیوں کے ملکوں نے تاوان نہ دیا انہیں داعش نے تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

ان میں سے کئی لوگون کے سر قلم کر دیے گئے تھے۔ بعد ازاں قلم کیے گئے سر اپنے پراپیگنڈہ کے لیے بنائی گئی ویڈیوز میں استعمال کیے گئے۔

اس حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ معلومات یرغمالیوں کی نقل وحرکت، مختلف متاثرین اور گرفتار کر لیے گئے اغوا کاروں کے انٹرویوز کی بنیاد پر اکٹھی کی ہیں اور کچھ باتیں ’بیٹلز‘ سے معلوم ہوئی ہیں۔

اسی طرح عدالتی کارروائیوں کے دوران بھی معلومات ملتی رہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر مغویوں کو قتل کے وقت ان کے قید کے لیے قائم مراکز سے دور لے جایا جاتا، اسی طرح ان کی تدفین بھی حراستی مراکز سے دور کی جاتی۔ یہ فاصلہ بعض اوقات ایک میل سے بھی کم بھی ہو جاتا تھا۔

گروپ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ قبروں کے لیے داعش کی طرف سے متعین کی گئی جگہ رقہ شہر کے جنوب میں تھی۔ رقہ جو داعش کے ایک گروپ نے عملا اپنا دارالحکومت بنا رکھا تھا۔ اسی طرح کی ایک جگہ قبروں کے لیے خاص تھی جو ادلب کے پاس تھی۔ یہ جگہ اپوزیشن کے آخری بڑے مرکز کے طور پر مشہور ہے۔

حقوق گروپ کے مطابق ابھی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ان مقامات سے بھی تصدیق کی کوشش کی جائے گی۔ واضح رہے داعش کے رکن بیٹلز کے خلاف امریکی عدالت نے کارراوائی مارچ میں شروع کی تھی۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے امریکی صحافیوں جیمز فولے اور سٹیون ساٹلووف کے علاوہ ریلیف ورکرز پیٹر کاسیج اور کیالہ ملر کو قتل کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں