کیا روسی صدر ولادی میرپوتین نے صدام حسین کی میزبانی کی تھی؟

جعلی پوتین اور صدام حسین کی تصویر نے چکرا کر رکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین یوکرین جنگ کی وجہ سے پہلے ہی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان کی عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کے ساتھ گئے وقتوں کی ایک مبینہ تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پوتین کا ہم شکل ایک شخص صدام حسین کی میزبانی کررہا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر کئی برس پرانی ہے۔ یہ اس وقت کی ہے جب پوتین ماسکو کے اقتدار سے دور تھے۔

بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں ایک شخص کو روسی صدر کے طور پر پیش کیا گیا جب وہ ایک عام سے ملازم تھے۔ وہ سابق عراقی صدر صدام حسین کی سوویت یونین کے دورے کے دوران مہمان نوازی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں

یاک شیراک کے ساتھ

تاہم یہ دعویٰ کہ صدام حسین کی خدمت کرنے والا شخص موجودہ روسی صدر پوتین ہے مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ یہ تصویر خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے 3 مارچ 1975 کو پیرس کے میٹیگنن ہوٹل کے اندرلی تھی۔

اس میں صدام حسین کے علاوہ دوسری طرف اس وقت کے فرانسیسی وزیر اعظم یایک شیراک بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

جب کہ تصویر میں پوتین کو بالکل بھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس تصویر کا پوتین کے ساتھ دور دورتک کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ شخص اس ہوٹل کا ملازم تھا جس کی شکل پوتین سے ملتی تھی۔

5 سال سے زیادہ پہلے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ تصویر پہلی بار 5 سال سے زیادہ عرصہ قبل پھیلائی گئی تھی، لیکن یہ گذشتہ گھنٹوں کے دوران سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر غلط تبصروں کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوئی۔

مرحوم عراقی صدر صدام حسین کو تقریباً 16 سال قبل 2003 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں