ایران مظاہرے

پاسداران انقلاب کے اہلکار سمیت دو سکیورٹی اہلکار فائرنگ سے ہلاک

صبح سویرے وال چاکنگ کرنے والے دو موٹر سائیکل سواروں کی گولی کا نشانہ بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ اہلکار کے علاوہ سرکاری ملیشیا کے اہلکار ہوگئے ہیں۔ یہ دونوں جنوبی صوبے فارس میں جمعہ کی صبح اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ مہسا امینی کے حق میں سپرے پینٹنگ سے وال چاکنگ کرنے والے احتجاجی کارکنوں کا تعاقب کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے ' ارنا' کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے ان دونوں سکیورٹی اہلکاروں کو 'فرض کی ادائیگی کے دوران شہید قرار دیا ہے۔' ان دو سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مظاہرین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 20 سے زائد ہو گئی ہے۔

ایران کی بائیس سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کو تہران میں پچھلے ماہ سر پر سکارف لیے بغیر بازار میں نکلنے پر اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اسی حراست کے دوران مہسا امینی کی موت واقع ہو گئی۔ جنوبی صوبے فارس میں بھی اس واقعے کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ اب تک فارس کے علاقے میں چھ مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی علاقے میں 30 ستمبر کو ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں نو عمر لڑکی کے ساتھ مقامی پولیس کمانڈر کے ہاتھوں مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ جبکہ جمعہ کی صبح پانچ بجے ایران کے بیروم نامی علاقے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار افراد سے سامنا ہوا۔ یہ دونوں وال چاکنگ کر رہے تھے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے ان کا تعاقب کیا تو انہوں نے فارنگ کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ دونوں سکیورٹی اہلکاروں کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔

ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی کا کہنا ہے کہ بیرونی قوتیں ایران میں بدامنی کے پیچھے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ان مظاہرین کو بیرونی طاقتیں ہی تربیت اور وسائل دے رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں