سعودی عرب کی نابینا طالبہ رہف نے دست کاری کا ہنر کیسے سیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شاہ سعود یونیورسٹی کی نابینا طالبہ راہف القحطانی نے ہاتھ سے بنی مصنوعات میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔

انہوں نے "روتانہ خلجیہ" چینل پر نشر ہونے والے "یا ھلا" پروگرام میں شرکت کے دوران کہا کہ میں نے یونیورسٹی میں سرگرمیوں کے میدان میں قدم رکھا اور ان ہینڈی کرافٹس کے ساتھ کام کرنا شروع کیا جن میں میری ذاتی دلچسپی تھی۔

راہف القحطانی نےبتایا کہ اس نے پلاسٹر اور چمکدار ٹوکریوں سے کام ڈیزائن کرنا شروع کیا۔ اس میں میری والدہ کا کردار تھا، اور پھر میں الباحہ یونیورسٹی میں ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں داخلہ لیا۔ وہاں بھی اسی نوعیت کا کام شروع کیا۔

ایک سوال کے جواب میں رہف کا کہنا تھا کہ میں پیدائشی نابینا نہیں بلکہ بعد میں موتیا کا شکار ہونے اور آپریشن میں ایک طبی غلطی کی وجہ سے میری بینائی چلی گئی تھی۔ جب میری بینائی چلی گئی تو میری عمر صرف سترہ سال تھی۔ اس کے بعد میری زندگی معذوری کی زندگی ہے مگرمیں نے اس سے لڑنا سیکھ لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں