غزہ کے ڈاکٹروں کی نقل مکانی سے صحت کے شعبے کی صورتحال مزید ابتر ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سنہ 2007ء سے غزہ میں وزارت صحت کے اسپتال اور مراکز صحت پے در پے اور پیچیدہ بحرانوں کا شکار ہیں لیکن ان مسائل میں سب سے سنگین مسئلہ ماہر ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ ڈاکٹروں کی کمی مریضوں کی تعداد میں اضافے اور ان کی زندگیوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

غزہ کی پٹی جنگی اور خونی تنازعات کا سب سے زیادہ شکار علاقہ ہے۔ یہاں کسی بھی لمحےلڑائی چھڑسکتی ہے اور اموات ہوسکتی ہیں۔ جب کہ علاقے میں آبادی کے تناسب سے طبی عملہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ 1,500 ڈاکٹرہیں جو 2.3 ملین سے زیادہ آبادی والے علاقے کو خدمات فراہم کررہے ہیں۔

نقل مکانی

عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے مطابق ہر ہزار افراد کی خدمت میں چار ماہر ڈاکٹروں کا ہونا ضروری ہے، لیکن غزہ میں یہ ناممکن ہے، کیونکہ یہ علاقہ بنیادی طور پر طبی عملے کی شدید قلت کا شکار ہے۔اس کی وجہ صحت کے کارکنوں کی بڑھتی ہوئی نقل مکانی ہے۔ اسپتالوں کے بعد غزہ کی پٹی میں ان کی زندگی مشکل ہوگئی اور وہ نقل مکانی پرمجبور ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل اسکول کے فارغ التحصیل افراد کی اس شعبے سے باہر کام کرنے کی شدید خواہش بھی غزہ میں طبی شعبے کی مشکلات بڑھا رہی ہے کیونکہ غزہ میں نئے آنے الے ڈاکٹروں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہی ہیں۔

درحقیقت غزہ سے طبی عملے کی ہجرت کوئی حالیہ بحران نہیں ہے۔ یہ 2007 میں حماس تحریک کے کنٹرول میں آنے کے بعد شروع ہوا تھا، لیکن گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ سے غزہ میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہوئی۔ معلومات کے مطابق 2019 میں 100 سے زیادہ ڈاکٹروں نے غزہ چھوڑ دیا۔ 2018 میں سب سے زیادہ ہنر مند ہیلتھ ورکرز میں سے 120 ڈاکٹروں نے غزہ چھوڑ دیا اور 2017 میں 93 ڈاکٹروں کی ہجرت دیکھی گئی۔

غزہ سے ڈاکٹروں کی روانگی 2020 اور 2021 کے دوران کرونا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں رک گئی تھی اور کئی ممالک نے مسافروں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں تاہم رواں سال کے دوران پٹی سے ڈاکٹروں کی سفری نقل و حرکت دوبارہ شروع ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں