امارات میں بے روزگاری الاونس کا نظام شروع ہو چکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں بے روزگار افراد کے لیے انشورنس سکیم کا باضابطہ آغاز پچھلے ہفتے سے ہو گیا ہے۔ یہ انشورنس کا نظام ان مقامی شہریوں اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے بروئے کار ہے ، جو کسی وجہ سے اپنے روز گار سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اس انشورنس پالیسی کے نظام کا اعلان ماہ مئی میں کیا گیا تھا۔ تاکہ امارات میں روزگار کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ٹیلنٹ اور سرمایہ کاری کو لایا جا سکے۔ اس بارے میں ' العربیہ' نے ماہرین قانون سے بات کی ۔ ماہرین قانون سے پہلا سوال یہ تھا اس انشورنس سے فائدہ اٹھانے میں کون شامل ہو گا اور کون فائدہ لے سکے گا؟

اس کے جواب میں ماہرین نے کہا ' اس کے لیے ہر وہ فرد حق رکھے گا جو کسی وجہ سے ملازمت سے محروم ہو گیا ہے۔ وزارت انسانی وسائل کی طرف سے رواں ماہ کے آغاز میں کیے گئے اعلان کے مطابق ہر متاثرہ فرد طے شدہ رقم تین ماہ کے عرصے کے لیے وصول کر سکے گا۔

متحدہ امارات میں موجود پرو پارٹنر گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نذر موسیٰ نے ' العربیہ ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' اس کا اصل فائدہ ان سب لوگوں کو ہوگا جو امارارت میں ملازمت کرتے ہیں۔ '

ان کا مزید کہنا تھا 'یہ سکیم بے روز گار ہونے والے کارکنوں کو ایک طرح سے زر تلافی دیا جائے گا، یہ زر تلافی نقدی کی صورت میں ہو گا۔ جو تین ماہ کے لیے دیا جائے گا۔ ' تین ماہ کی اس مدت کا آغاز ان کی ملازمت چھوٹنے کے دن سے ہو گا۔'

سائمن ایسغار انشورنس کمپنی کے سربراہ اور شراکت دار ہیں انہوں نے ایک سوال پر کہا ' ایک فرد جو بے روزگار ہوا ہو گا وہ اپنی ملازمت کے دوران ملنے والی تنخواہ کا 60 فیصد اس انشورنس سکیم سے وصول کرنے کا دعویٰ کر سکے گا۔' تاہم اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ کم از کم ایک سال سے اس انشورنس سکیم کے ساتھ انشورڈ ہو۔ یہ ایک سال اس کے انشورنس پالیسی خریدنے والے دن سے شروع ہو گا۔ '

اسی دوران نذر موسیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ' اس سکیم سے سرمایہ کار یا کام کرنے کی فیکٹری اور دفتر وغیرہ کی جگہ کا مالک فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ نیز وہ لوگ بھی اس کے دائرہ سے باہر ہیں گے جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہو گی یا ریٹارمنٹ کے بعد پیشن وصول کر رہے ہیں گے۔ اسی ظرح وہ ملازمین جو کسی انضباطی کارروائی کے تحت ملازمت سے فارغ کیے گئے ہوں گے۔'

واضح رہے خلیجی ممالک جن میں سعودی عرب، اومان ، قطر اور کویت نے کارکنوں کے مفاد میں اسی نوعیت کا نظام وضع کر رکھا ہے۔ بحرین نے بھی بے روزگار ہونے والے کارکنوں کے لیے انشورنس سکیم متعارف کر رکھی ہے۔

سائمن ایسغار نے اس حوالے سے کہا ' سکیم متعارف کرانے کا مقصد بے روزگار ہونے والے کارکنوں کو نئی ملازمت کی تلاش کے دوران عبوری مالی ریلیف دینا ہے۔ تاکہ وہ اس عبوری مالی مدد کے عرصے میں نئی ملازمت کے لیے وقت نکال سکیں اور بہتر ماحول میں بات کرنے کی پوزیشن میں آ سکیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں