سعودی عرب اور ابوظہبی کا کریڈٹ سوئس انویسٹمنٹ بینک میں فنڈز لگانے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

باخبر ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور ابوظہبی نے کریڈٹ سوئس انویسٹمنٹ بنک میں سرمایہ کاری کرنے پر غور شروع کردیا ہے تاکہ بنک کی گرتی ہوئی قدر سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

بلومبرگ ایجنسی کی شائع کردہ اور العربیہ ڈاٹ نیٹ کی اخذ کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دو ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر کہا ہے کہ ریاض اور ابوظہبی الگ الگ خودمختار دولت فنڈز جیسے ابوظہبی کی مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی اور سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے ممکنہ سرمایہ کاری پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا اس حوالے سے معاہدہ دوسرے ایسے ٹولز کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے جس میں ہر ملک کے پاس بڑے حصص موجود ہوں۔

ذرائع کے مطابق بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ بات چیت تصدیق شدہ پیشکش کا روپ دھارتی ہے یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ سرمایہ کار مستقبل کے نقصانات یا قانونی مسائل کے خطرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔

یاد رہے کریڈٹ سوئس کے حصص کی قدر اس سال تقریبا نصف ہو گئی ہے۔ اس کے حصص بینکنگ انڈیکس سے زیادہ گر گئے ہیں۔

بنک کے پاس دو ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے جس میں اس نے ایڈوائزری اور لیوریجڈ فنانس بزنس کے درمیان ممکنہ علیحدگی سمیت تازہ ترین تنظیم نو کی تفصیلات ظاہر کرنا ہیں۔ ذرائع میں سے ایک نے بتایا ہے کہ ابوظہبی میں حکومت کی اعلیٰ سطح پر اس ادارے میں ممکنہ سرمایہ کاری پر بات چیت کی گئی ہے۔

کریڈٹ سوئس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنی جامع حکمت عملی کے جائزے کے بارے میں تازہ ترین نتائج کا انکشاف اس وقت کریں گے جب ہم تیسری سہ ماہی کی آمدنی کی اطلاع دیں گے۔ اس سے پہلے کسی بھی ممکنہ نتائج پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ابوظہبی میں میڈیا آفس اور سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے پاس فوری تبصرہ کرنے کے لیے نمائندے موجود نہیں تھے۔ جبکہ ابو ظہبی کی مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے بلومبرگ نے اس ماہ کے اوائل میں اطلاع دی تھی کہ سوئس کریڈٹ اپنے مشاورتی اور سرمایہ کاری بینکنگ کاروبار کے حصے میں رقم لگانے کے لیے ایک بیرونی سرمایہ کار کو لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈیل میکنگ اور انڈر رائٹنگ یونٹ کو الگ کرنے سے مشکل کی شکار انویسٹمنٹ بینکنگ ڈویژن کو مؤثر طریقے سے تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ کریڈٹ سوئس سکڑتے ہوئے تجارتی یونٹ کو برقرار رکھے گا۔

تبدیلیوں کے ایک حصے کے طور پر ہی انویسٹمنٹ بینکنگ ڈویژن کے سربراہ کرسچن میسنر آنے والے ہفتوں میں رخصت ہونے والے ہیں۔ اس معاملہ سے آگاہ افراد نے پہلے ہی بتایا تھا کہ میسنر کی رخصتی کا اعلان دیگر اقدامات کے ساتھ 27 اکتوبر کو کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کریڈٹ سوئس طویل عرصہ سے مشرق وسطیٰ کے امیر سرمایہ کاروں پر بطور بڑے شیئر ہولڈرز انحصار کرتا آرہا ہے۔ ان شیئرز ہولڈرز میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اور سعودی عرب کا اولیان گروپ شامل ہے۔ یہ بڑے شیئر ہولڈرز ضرورت کے وقت سوئس کریڈٹ میں سرمایہ کرتے رہے ہیں۔ قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی کی اپریل 2021 میں کریڈٹ سوئس کنورٹیبل بانڈز میں تقریباً 2 بلین ڈالر کے اجراء میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کی ضرورت اس وقت پیش آئی تھی جب کریڈٹ سوئس کا بڑا کلائنٹ ’’ آرکی گاس کیپٹل مینجمنٹ‘‘ فنڈ اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں