قاہرہ یونیورسٹی کو شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی جانب سے پیش کردہ تحفے کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے جنرل سپروائزر فیصل بن عبدالرحمن بن معمر نے قاہرہ یونیورسٹی اور مصری عرب جمہوریہ کے نائب وزیر تعلیم کو ایک منفرد ثقافتی آرٹ ورک کا تحفہ پیش کیا۔ اس تحفے کی کہانی کیا ہے؟

یہ جانا جاتا ہے کہ لائبریری میں مخطوطات اور نایاب کتب کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ان میں سب سے نمایاں مخطوطات میں عباس پاشا اول کے دورمیں لکھا مخطوطہ ہے۔ یہ شاید اب تک اصیل گھوڑوں پر لکھی گئی پہلی دستاویز ہے جسے 170 سال قبل تحریر کیا گیا تھا۔

یہ مخطوطہ عرب گھوڑوں کے شجرہ نسب کے بارے میں معرفت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لائبریری نے ماہرین کی ایک ٹیم کے ذریعہ اس مخطوطہ کی تصدیق کی ہے اور اسے دو جلدوں میں مرتب کیا گیا ہے: پہلا گھوڑوں پر عباس پاشا اول کے مخطوطہ کی نقل ہے، اور دوسری جلد میں گھوڑوں کے بارے میں عمومی مطالعہ شامل ہے۔

بن معمر نے اس نایاب نسخے کی کاپیاں قاہرہ یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمد عثمان الخشت کو یونیورسٹی کی جانب سے کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل پرائز فار ٹرانسلیشن کی ایوارڈ تقریب کی میزبانی کے دوران پیش کیں۔انہوں نے مصری نائب وزیراعظم کودو کاپیاں بھی پیش کی تھیں۔

بن معمر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لائبریری نے اصل کاپی حاصل کی ہے۔ اس کا عنوان ہے: "اصیل گھوڑے" رکھا گیا ہے۔ جسے عباس پاشا کا گھوڑوں پر لکھا ہوا نسخہ کہا جاتا ہے۔ یہ سنہ 1269 ہجری / 1852 عیسوی میں لکھا گیا تھا۔ اس میں اصیل گھوڑوں، جزیرہ نما عرب کے قبائل کے درمیان صحرائی باشندوں اور موجودہ لوگوں کے درمیان گھوڑوں کی اہمیت، مخطوطہ میں خالص نسل کے گھوڑوں کے نام، ان کے سٹالز کے نام، ان کی نسل کی اقسام اور ان کے مالکان، بریڈرز اور ڈیلرز کے نام شامل ہیں جو انہیں خریدنے اور رکھنے کے خواہشمند تھے۔

اس کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس نایاب نسخے کے کام اور تصنیف کی ابتدا ایک قریبی دوستی کی وجہ سے ہے جو 1848ء میں مصر پر حکمرانی کرنے والے خدیوی عباس پاشا اور دوسرے سعودی عرب کے بانی امام فیصل بن ترکی کے درمیان پیدا ہوئی تھی۔امام فیصل نے بڑی تعداد میں اچھی نسل کے گھوڑے عباس پاشا کو تحفے میں دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں