اوپیک پلس اور سعودی عرب کے موقف کی حمایت کرتے ہیں: عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے اوپیک پلس کے فیصلے پر ردعمل اور اس فیصلے سے ظاہر ہونے والے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ عراقی وزار خارجہ نے ’اوپیک پلس‘ کے حوالے سے سعودی عرب کے فیصلوں اور اقدامات کی حمایت کی ہے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی ’واع‘ کے مطابق ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ اوپیک تنظیم کے اندر جس راستے پر انحصار کیا گیا ہے وہ تیل کی منڈیوں کے استحکام اور اس کی ضروریات، رسد اور طلب کے عمل کو منظم کرنے، تیل پیدا کرنے والے ملکوں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ سے متعلق تکنیکی نقطہ نظر کا اظہار کرتا ہے یہ ضروری ہے۔

اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت

عراق کی وزارت خارجہ نے اوپیک پلس کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں کے بعد سے کسی بھی پالیسی کو مسترد کرنے پر بھی زور دیا اور تنظیم کے موقف، خاص طور پر مملکت سعودی عرب کی حمایت کی۔

بیان میں اس مسئلے سے متعلق ہر تنازعہ کو فطری انداز اور براہ راست اور متوازن بات چیت کے تناظر میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیث نے منگل کے روز اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ تیل کی پیداوار میں کمی کا حالیہ اوپیک پلس فیصلہ متفقہ طور پر لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی تیل کی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں