ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے لیے روس ایران اتفاق

اسلحے کی نئی کھپ جلد روس پہنچے گی۔ اعلیٰ ایرانی حکام کا روسی دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران نے روس کو زمین سے زمین پر مار کرنے کے لیے مزید ڈرون طیارے فراہم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس بارے میں ایرانی حکام اور سفارت کار سمجھتے ہیں امریکہ اور مغربی طاقتوں کو ایران پر غصہ آئے گا۔

تام ایران اور روس کے درمیان چھ اکتوبر کو ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے اول نائب صدر محمد مخبر ، پاسداران انقلاب کے دو سینئیر ذمہ دار ، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے ایک ذمہ دار نے ماسکو کا دورہ بھی کیا ہے۔ تاکہ روس سے ڈرونز کی فراہمی کے امور پر تبادلہ کیال کر سکیں۔

ایک ایرانی سفارتکار جسے اس اعلیٰ سطح کے وفد کے دورہ کے بعد بریف کیا گیا تھا اس نے بتایا کہ 'روس نے ایران اس کے تیار کردہ بلاسٹک میزائلوں کی ڈیمانڈ کی ہے ، جو زیادہ درستگی کے ساتھ بروئے کار آسکیں۔ بطور خاص فاتح اور ذوالفقار کے ناموں سے ایرانی میزائلوں کی قسم کے میزائلوں کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ '

اسی بارے میں ایک مغربی سفارتکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اتفاق ہو گیا ہے۔ کہ ایران شارٹ رینج کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل روس کو دے گا۔ اس معاہدے میں ایرانی ساختہ ذوالفقار میزائل کی فراہم بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام اس مغربی موقف کی تردید کرتے ہیں کہ ایران کی روس کے ساتھ یہ ڈیل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دا کے خلاف ہے۔ ایک ایرانی ذمہ دار نے کہا ' ہم یوکرین تنازعے پر مغربی ممالک کی طرح موقف نہیں رکھتے ہیں۔ ہم اس لڑائی کے سفارتی طریقوں سے خاتمے کے حامی ہیں۔ '

ادھر روس نے یوکرین پر حملوں میں ایرانی ڈرونز کے استعمال سے لاعلمی ظاہر کی ہے جبکہ ایران پہلے ہی ڈرون فراہمی کی تردید کرتا رہا ہے۔ جب کریملن میں روسی ترجمان پیسکوف سے ایرانی ڈرون طیاروں کے جنگ میں استعمال پر پوچھا گیا تو ترجمان کا کہنا تھا ' کریملن کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں۔ '

اگلے سوال پر ترجمان نے کہا یہ سوال وزارت دفاع سے متعلق ہیں اسی سے پوچھیں۔ تاہم روسی وزارت دفاع نے ان سوالوں پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ روسی کے اسلحہ خانوں میں ایرانی ڈرونز و دیگر اسلحے کی موجودگی سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تناو میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایرانی ڈرونز کی کھیپ کب روس پہنچے گی؟

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز یوکرین پر روسی حملوں میں ایرانی درونز کے استعمال کی کا ھوالہ دیا اور اس کی تردید سے متعلق ایرانی بیان کو جھوٹ کہا۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرین جین نے بھی ایرانی موقف کو جھوٹ قرار دیا تھا۔

ایک مغربی سفارتکار نے کہا 'میرا خیال ہے کہ روس مغربی ممالک کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے بعد اپنی جنگی صنعت کو چلانے میں مشکل محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے اسے ایران اور شمالی کوریا جیسے اتحادیوں سے مدد لے رہا ہے۔ اس ناطے ایرانی ڈرونز کا استعمال منطقی لگتا ہے۔'دوسری جانب جب امریکی سفارت کار سے پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا ۔ وہ نہیں جانتا ایرانی ڈرون روس کو کب اور کن شرائط پر ملیں گے۔

تاہم کئی مغربی ممالک نے پیر کے روز ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیونکہ روس سینکڑوں کی تعداد میں ایرانی ڈرون استعمال کر رہا ہے اور مزید سینکڑوں ڈرون منگوانا چاہتا ہے۔

اس لیے مغربی سکیورٹی اہلکار سمجھتے ہیں کہ ایرانی ڈرون طیاروں کی اگلی کھیپ لے کر ایرانی شپمنٹ جلد روس پہنچے گی۔ اگرچہ وہ اس بارے میں کوئی واضح تاریخ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں