فلسطین "غزہ میرین" گیس فیلڈ کی ڈویلپمنٹ کے لیے اسرائیلی منظوری کا منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اور مصری کمپنیوں نے غزہ کی پٹی کے ساحل پر قدرتی گیس فیلڈ "میرین" فیلڈ کو تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن اسرائیلی حکومت سے تحریری منظوری حاصل کیے بغیر اصل کام شروع نہیں ہوگا۔

باخبر ذرائع نے معاصرعزیز’الشرق‘ کو بتایا کہ اس فیلڈ کو تیار کرنے کی لاگت تقریباً 1.4 ارب ڈالر ہے اور ترقی پذیر کمپنیاں تحریری اسرائیلی منظوری کے بغیر ایسا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض حاصل نہیں کر سکیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ ایک فلسطینی اتحاد جس میں حکومتی سرمایہ کاری فنڈ اور یونین آف عرب کنٹریکٹرز کمپنی (CCC) شامل ہے، جو فلسطینی تاجروں کی ایک بین الاقوامی کمپنی ہے، اس فیلڈ کو تیار کرنے کے لیے مصری گیس ہولڈنگ کمپنی کے ساتھ پیشگی بات چیت کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے لیکن اسرائیل کی باضابطہ منظوری حاصل کرنے سے پہلے فیلڈ کی ڈویلپمنٹ شروع نہیں ہوگی۔

فلسطین اور مصر نے اسرائیلی حکومت سے زبانی منظوری حاصل کی تھی، لیکن کام شروع کرنے اور ضروری قرضوں کے حصول کے لیے رسمی تحریری منظوری درکار تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ آئندہ اسرائیلی عام انتخابات اور مستحکم حکومت کی تشکیل سے قبل ایسی تحریری رضامندی ممکن نہیں ہو گی۔

فلسطین نے 1999 میں برطانوی گیس کمپنی کو اس فیلڈ کی تلاش اور ترقی کا کام سونپا تھا لیکن دوسری انتفاضہ شروع ہونے کے بعد کمپنی کا کام 2002 میں رک گیا اور سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نےیاسر عرفات پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ گیس کی آمدنی کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

بین الاقوامی "شیل" کمپنی کے ساتھ "برٹش گیس" کے انضمام کے بعد مؤخر الذکر نے اسرائیل کی سرکاری منظوری نہ ہونے کی وجہ سے فیلڈ میں کام بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

"شیل" کمپنی کے انخلاء کے بعد فلسطین نے مصری کمپنی کا سہارا لیا، اسرائیل اور غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والی "حماس" تحریک دونوں پر مصر کے خصوصی اثر و رسوخ پر بھروسہ کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مصری اور امریکی کوششیں "ابتدائی اسرائیلی منظوری" حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں مگرحتمی منظوری باقی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں