’دُنیا میں گھڑسواری کے میدان میں سعودی عرب کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں‘

’ہارس ریسنگ‘ کا لائسنس حاصل والی پہلی خاتون امل کو یہ مقام کیسے ملا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی امل بنت فیصل پہلی خاتون ہیں جہنیں گھوڑ سواری کا باضابطہ لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ گھوڑے امل کے لیے ہرچیز سے اہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے گھوڑوں سے بہت پیار ہے۔ امل نے "ہارس ریسنگ کلب" سے گھوڑے کا لائسنس حاصل کر کے اپنا مشن مکمل کر لیا۔ امل بنت فیصل سعودی عرب کی پہلی خاتون ہیں جنہیں یہ لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئےامل نے کہا کہ انہوں نے اپنی گھڑ سواری کی مہارت چھوٹی عمر سے ہی اپنے خاندان کے تعاون سے حاصل کرلی تھی۔ گھڑ سواری اس کا جنون بن گیا۔ گھوڑوں سے اسے محبت ہوگئی اور یہ شوق سے ہی اس کا پیشہ بن گیا۔ تاہم امل کا ماننا ہے کہ اس نے یہ مقام ویسے ہی نہیں پایا بلکہ اسے یہ منزل حاصل کرنے میں محتاط دوڑ سے لے کر اسپیڈ ریسنگ اور پروفیشنل ہارس ریسنگ تک اسےکئی منازل سے گذرنا پڑا۔

مہارت کا عرصہ

ایک سوال کے جواب میں امل بن فیصل کا کہنا تھا کہ لائسنس کا حصول اس کی آخری منزل نہیں۔ وہ عالمی سطح پر گھڑ سواری کے مقابلوں میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں۔

امل کو امید ہے کہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے حریف گھڑ سواروں کو شکست دے کرمقابلے جیت سکتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ دنیا کے سامنے سعودی خواتین کی ایک با وقار تصویر پیش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی ان کے عزائم میں سے ایک ہے۔انہیں ہارس ریسنگ کلپ کے سربراہ شہزادہ بندر بن خالد الفیصل کے تعاون اور توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے چھ سال سے گھڑ سواری میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔

درخواست کی کہانی

امل بنت فیصل نے وضاحت کی کہ ہارس کلب کی طرف سے لائسنس جاری کیے جانے کی کہا کا آغاز اس وقت ہوا جب ستمبر 2020 میں شہزادہ بندر بن خالد نے انہیں بلایا۔ اس وقت وہ طائف میں تھے۔ لڑکیوں کے لیے سپرنٹ کے لیے راستہ کھولنے کو کہا۔مجھے امید تھی کہ شہزادہ بندر میری درخواست قبول کر لیں گے۔ اس کے بعد مجھے 17 اکتوبر 2020ء کو ریاض میں بالبادوک میں بلایا۔ وہاں سے میرا گھڑ سواری کا تیز رفتار مقابلے کا سفر شروع ہوا۔

امل کی گھڑ سواری کی کامیابیوں میں شہزادہ سعود بن سلمان کی حمایت بھی شامل ہے۔

امل کا کہناہے کہ سب سے اہم چیز کے بارے میں جو اس نے گھڑ سواری کی دنیا سے سیکھی وہ صبر، طاقت اور ذمہ داریوں کو سنبھالنا سیکھا۔ اسے یہ عادتیں ویسے بھی پسند ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب میں خواتین کے کھیلوں کے مستقبل کے بارے میں بھی امید کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی لڑکی کو مختلف شعبوں میں بااختیار بنانے،حمایت حاصل کرنے اور اس کی خدمت کے لیے تمام امکانات کو بروئے کار لانے کے مواقع موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں