ایرانی میزائل اور ڈرون طیارے روس اور ایران کے لیے مفید ثابت ہو سکیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایران نے روس کو زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق میزائلوں کی یہ فراہمی پہلے سے دیے جانے والے ڈرونز کے علاوہ ہو گی۔ایران کی طرف روس کو میزائلوں کی فراہمی کا یہ وعدہ امریکہ اور یورپی ممالک کو مزید مشتعل کرنے کا باعث بنے گا۔

ایرانی اسلحے سے روس کی یوکرین کے خلاف ناکام ہوتی جنگ کو تقویت دینے کا ذریعہ بنے گی۔ جبکہ ایران کی مذہبی حکومت کو اس فیصلے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح سے کافی دباو کا سامنا ہو گا۔ اس سلسلے میں بعض پہلووں کا درج ذیل سوالوں کی صورت میں جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایرانی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی اہلیت کیا ہے ؟

ایران نے اپنے ہاں مقامی سطح پر ہتھیاروں کی صنعت کھڑی کی ہے۔ یہ بین الاقوامی پابندیوں کا ایک توڑ کرنے کی بھی کوشش ہے۔ کیونکہ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے سبب ایران اسلحہ درآمد نہیں کر سکتا ہے۔ میزائل اور ڈرون بھی درآمد نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اپنے ہاں بنائے گئے میزائل اور ڈرون اسے اپنے ازلی دشمن اسرائیل اور امریکہ سے احساس تحفظ بھی دیتے ہیں۔

امریکہ جس نے خطے میں اپنے فوجی جگہ جگہ بٹھا رکھے ہیں۔ وہ اور مٖغربی مبصرین یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں ایران گاہے گاہے اپنی جنگی ہتھیار سازی کی صلاحیت کے معاملے میں مبالغے سے بھی کام لیتا ہے۔ تاہم ایران سمجھتا ہے کہ اس کے ڈرونز اس کے لیے سرحدی نگرانی کا ذریعہ ہیں۔

خصوصا خلیج فارس کے پھیلے پانیوں میں آبنائے ہرمز تک کی نگرانی کے لیے غیر معمولی سہولت کا ذریعہ ہیں۔ دنیا میں تیل پیدا کرنے والا پانچواں ملک ہونے کے ناطے اپنی تیل کی بحفاظت ترسیل و تجارت کے لیے بھی یہ بہت مفید ہے۔

ایران اور علاقے کی دوسری طاقتیں حالیہ برسوں میں یہ زیادہ احساس کرنے لگی ہیں کہ جب سے یمن، شام اور ایران میں ڈرون حملے شروع ہوئے ہیں اور جہاں جہاں ایران نے اپنی ' پراکسیز ' پھیلا رکھی ہیں۔ اس میں ایرانی میزائلوں کا کردار اہم رہا ہے۔

سعودی عرب اور امریکہ یہ یقین رکھتے ہیں سعودی آئل ریفائنریز پر میزائل حملوں میں ایران ہی ملوث تھا۔ ایران تردید کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کے تیار کردہ ڈرون طیارے خطے میں سب سے زیادہ موثر اور مضبوط ہیں۔ یہ ڈرونز اس کی ضرورت کے تحت نگرانی میں بھی سب سے زیادہ موثر ہیں۔ علاوہ ازیں نگرانی کے ساتھ ساتھ یہ حملے کے لیے بھی مفید تر ہیں۔

حتی کہ ایران کے دور مار میزائل اسرائیل کو بھی ٹارگیٹ کر سکتے ہیں۔ ایرانی دعویٰ ہے کہ اس کے بلیسٹک میزائل 2000 کلومیٹر تک موثر ہیں۔ اس وجہ سے امریکی حملوں کا بھی توڑ بھی ہیں۔ اسرائیل کا بھی اور دوسری علاقائی طاقتیں بھی۔جیسا کہ اس کا میزائل سجیل اس وقت تیاری کے مرحلے میں ہے جس کی رینج 1500 سے 2500 کلو میٹر تک ہو گی۔

اسی طرح اس کے شارٹ رینج ، میڈیم رینج میزائلوں میں شہاب ون سے شروع ہونے والی سیریز ہے۔ شہاب ون کی رینج 300 کلو میٹر ہے۔ ذوالفقار کی رینج 700 کلو میٹر ہے۔ جبکہ شہاب 3 کی رینج 800 سے 1000 کلو میٹر تک ہے۔

ایران کے پاس کروز میزائل ٹیکنالوجی بھی ہے جو 55 کلو ہاٹز کی اہلیت کا حامل ہے۔ یہ فضا میں مار کرنے والے میزائل ہیں جو جوہری مواد لے جانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اینٹی شپ میزائل ہیں۔

ایرانی ڈرون کے ساتھ لگے میزائلوں کی اہلیت کس قدر ہے؟

اپنے ارد گرد موجود امریکی فورسز ، اسرائیلی فوجی برتری اور بری معاشی صورت حال کے باوجود ایران میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی فضائیہ عملا بہت کمزور اور پرانی ہے۔ دہائیوں پرانے طیاروں کی مرمت اور اور بحالی بجائے کود ایک مشکل امر ہے۔ اس لیے ڈرون طیاروں اور میزائلوں کی تیاری کو ایران میں ایک قدرے سستا اور مفید طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس راستے سے ایران اپنی سرحدوں کی بہت حفاظت ممکن بنا سکتا ہے۔

شام اور یمن میں ایرانی جنگی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے پچھلی دہائی میں ایران کو اپنے ہاڈوئیرز کو بہتر کرنا پڑا۔یمن میں ایرانی حمایت یافتی حوثیوں نے اپنے 'یو اے وی ' کے ذریعے سعودیہ پر حملوں کی استعداد بہتر بنائی۔ انہ کے زریعے سعودی ائیر پورٹس ، اور آئل ریفائنریز کو ہدف بنایا گیا ۔ یوں ایران کے اہم مخالف کو نقصان پہنچایا گیا۔

ایران روس کو کیا فراہم کر رہا ہے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کے علما کی قیادت میں ایران کی روس کےساتھ تذویراتی تعلقات کی مضبوطی کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ ان تعلقات کی اہمیت ان کے لیے امریکی حمایت سے مشرق وسطیٰ کے عرب ملکوں اور اسرائیل کے درمیان ابھر نے والے بلاک کے تناظر میں بھی روس کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو خوب سمجھتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے ' امریکی حمایت سے بننے والے بلاک کے بدولت خطے میں طاقت کا توازن ایران سے مزید دور بھی جا سکتا ہے۔' اس ماحول میں ایران تنہائی میں نہیں رہنا چاہتا ہے۔

اب تک روس نے یوکرین کے خلاف کونسے ہتھیار استعمال کیے ہیں؟

روس نے پچھلے پیر کو درجنوں ڈرون چلائے تاکہ یوکرین کے توانائی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا سکے۔ اس ڈرون حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یوکرین نے انہی ڈرونز کی وجہ سے اب ایران کےساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ مغربی دنیا میں بھی ان ڈرون حملوں کے بعد ایران کے بارے میں غم وغصہ بڑھا ہے۔

کیا ایران پر مزید پابندیوں کا اثر آئے گا ؟

مغربی قوتیں امکانی طور پر ایران پر مزید پابندیاں لگانے والی ہیں۔ اس سے پہلے ایران کی آٹھ شخصیات پر یورپی حکومتوں نے پابندیوں کاٖ فیصلہ کیا تھا۔ تین یورپی سفارتکاروں کا کہنا تھا ' ایران نے کئی دہائیوں میں پابندیوں کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔ اس لیے اسے اپنی سپلائی لائنز پر کنٹرول حاصل ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں