’ایک لمحہ ضائع کرتا تو سیوریج ٹینک میں گرے بچے کی زندگی چلی جاتی‘

سعودی عرب میں سیوریج ٹینک میں گرنے والے بچے کوایک نوجوان نے جان پرکھیل کر کیسے بچایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک اہم لمحے میں جس میں ایڈونچر کرنے کے لیے فوری فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے نوجوان خالد العضیانی نے ایک بچے کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

یہ واقعہ گذشتہ جمعہ کی سہ پہر کو سعودی عرب کی القصیم گورنری میں "بیارا" کے مقام پراس وقت پیش آیا جب بچہ سیوریج ٹینک میں گر گیا تھا۔ بچے کو ایمبولیس کی مدد سے جنوبی القصیم کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں فوری طبی امداد دے کر اس کی جان بچا لی گئی۔

ناقابل فراموش منظر

’العربیہ‘ چینل سے بات کرتے ہوئے العضیانی نے کہا کہ میرے پاس وقت بہت کم تھا اور مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ اس وقت بچے کو کیسے بچانا ہے۔میرے پاس وقت ضائع کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں تھا۔ اگر میں وقت ضائع کرتا تو بچے کی جان چلی جاتی۔

العضیانی کا کہنا ہے کہ بچہ جس کی شناخت "غیث" کے نام سے کی گئی ہے اپنی ماں کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس کی ماں گھر کا فضلہ لے کرباہر آئی تھی۔ غیر ارادی طور پر سیوریج کے خستہ حال ٹینک کے ڈھکن پر پاؤں رکھتے ہی بچہ گڑھے میں گر گیا۔ گڑھا 4 میٹر سے زیادہ گہرا تھا جب کہ بے بس ماں رونے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔

تکلیف کے لمحات

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ماں کو اپنے دو سالہ بچے "غیث" کو بچانے کی التجا کرتے ہوئے سنا۔ اسے پانی کی سطح پر تیرتے دیکھا۔ میں نے حالات کی سنگینی کے باوجود بچے کو بچانے کی کوشش میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے پکڑ کر منہ کی طرف اٹھایا اور اس کے والد اور بھائی اسے پکڑ کر باہر لے گئے۔

العضیانی کا کہنا ہے کہ اس نے بغیر کسی احساس کے ایک مہم جوئی کا فیصلہ کیا اور بچے کو کھینچنے میں کامیاب رہا جب سب نے سوچا کہ بچہ مر گیا ہے کیونکہ وہ مکمل کوما میں تھا۔

اس نے کہا کہ ہم نے بچہ مکمل کوما میں پایا۔ اس کے بھائی عبداللہ نے فوری طور پر جو کچھ اس نے ملٹری کالج فار کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن میں پڑھا تھا اس کے مطابق بھائی کی جان بچانے کے لیے کوشش کی۔

بچے کو بریدہ کے میٹرنٹی اینڈ چلڈرن اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ 3 دن تک زیرعلاج رہا جس کے بعد اسے ڈسچارج کردیا گیا۔ حاثے میں بچے کی دو پسلیاں ٹوٹیں ہیں جب کہ اس کے پھیپھڑوں میں سے زہریلا مادہ نکالا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں