خاندان کا ڈر 20 سال تک میرے ٹیلنٹ کے اظہار میں رکاوٹ بنا رہا: سعودی فنکارہ

فلم "نور شمس" کے لیے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ پر خوش ہیں: عائشہ الرفاعی کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

معروف سعودی اداکارہ عائشہ الرفاعی نے بتایا ہے کہ انہوں نے فائزہ امبہ کی ہدایت کاری میں بننے والی مختصر فلم "نور شمس" میں اپنے کردار کے لیے ’’شارجہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘‘ میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت کر بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو انٹرویو دیتے ہوئے فنکارہ عائشہ نے فلم "نور شمس" کی جیت پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس جیت میں اتنا خوش ہوں جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا "نور شمس" میں میرا کردار اکیلی ماں کا تھا جس کا ایک بیٹا ہے۔ ماں ایک فون ایپلی کیشن کے ذریعہ ٹیکسی ڈرائیور کا کام کرتی ہے، اس کا بیٹا کسی ایسے نوجوان کی طرح ہے جو موسیقی سے محبت کرتا ہے اور اپنے مستقبل کی تلاش میں ہے۔ یہاں سے ماں اور بیٹے کے درمیان جھگڑا شروع ہوتا ہے۔

عائشہ الرفاعی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں کہا اداکاری کا شوق مجھے بچپن سے ہی تھا ۔ والدین کے حالات اور ان کے اس شعبے سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے میرا یہ ٹیلنٹ 20 سال تک ملتوی ہوتا رہا۔ لیکن یہ ٹیلنٹ میرے اندر موجود رہا آخر کار میں نے والدین کو راضی کرلیا۔ میں نے اپنے والدین کی رضامندی سے اداکاری کے شعبہ میں قدم رکھا تاکہ میں ان کی بھرپور حمایت بھی حاصل کرسکوں۔

انہوں نے کہا میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ’’ سنیپ چیٹ‘‘ پر ایک خصوصی اکاؤنٹ شروع کرکے کیا جو جدہ، ریاض اور پوری مملکت میں ان کی شہرت کا سبب بنا۔

اس نے مزید کہا کہ جدہ کا سیزن "وش السعد" میرے لئے اہم تھا کیونکہ میں نے ڈائریکٹر ٹوڈ نیمس کے ساتھ "بیت الدھا لیز" کے نام سے سٹیج ڈرامہ میں اپنی پہلی شرکت کی تھی۔ میں نے ابتدائی طور پر اس ڈرامے میں ثانوی کردار ادا کیا لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ہدایت کار نے مجھے ایک پیچیدہ مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔

اس ڈرامے سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور پھر فلم ’’نور شمس‘‘ میں بھی کام کیا اور وہاں سے مزید اداکاری کا سلسلہ چل نکلا۔

کامیابی کا راز

انہوں نے واضح کیا کہ میری کامیابی کی ایک سب سے اہم وجہ خاندان کی حمایت اور ہدایت کار فائزہ امبہ کا تعاون ہے جنہوں نے اصول کو توڑ کر مجھے تمام اختیارات دے دیئے۔

فلم "نور شمس" کی انفرادیت کے متعلق انہوں نے انکشاف کیا کہ اس کا راز مکالموں کی سادگی اور مخلصانہ احساس میں ہے۔ خاص طور پر یہ کہ ہدایت کار نے مہارت کو یقینی بنانے کے لیے فلم کی شوٹنگ سے پانچ ماہ قبل تربیت شروع کر دی تھی۔

اپنے اہم ترین کاموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ نے کہا میں نے ہدایت کار ٹوڈ نیمز کے ڈرامے "بیت الدھالیز " میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اب وہ سینما کلرز کلب جدہ کے ڈائریکٹر عبدالرحمن ال یحییٰ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کی شوٹنگ کی تیاری کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی ہمیشہ ٹھوکریں کھانے کے بعد ملتی ہے اور اس طرح کامیابی کا ذائقہ زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا فنکار کو اپنی صلاحیتوں پر ا عتماد ہونا چاہیے۔ اپنی اداکاری کی تربیت کے متعلق انہوں نے کہا میں نے باقاعدہ فنی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن میں نے یو ٹیوب پر تربیتی کلپس استعمال کئے اور بڑے ستاروں کے کام دیکھ کر خود کو اداکاری کی تربیت دی۔

انہوں نے کہا کہ میری مستقبل کی خواہشات میں سے ایک یہ ہے کہ میں سعودی سینما کا ایک ممتاز چہرہ بنوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں