سعودی نوجوان نے فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے پیدل قطر کا سفر شروع کردیا

سیاح عبداللہ السلمی کو کینیڈا اور آسٹریلیا میں پیدل سفر کا طویل تجربہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کا 33 سالہ شہری عبداللہ السلمي دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس مقصد حاصل کرنے کیلئے السلمی نے قطر کے فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے جدہ سے قطر کا پیدل سفر شروع کردیا اور آخر کار میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ السلمی 42 دن پیدل سفر کرکے اور 1300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے قطر پہنچے گا۔

وہ اب بھی دوحہ پہنچنے اور ورلڈ کپ کے سٹینڈز میں بیٹھنے کا اپنا خواب پورا کرنے کیلئے سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ میڈیا کی توجہ السلمی کی مبذول ہوئی تو اب مقامی اور بین الاقوامی اخبارات اس سے بات چیت کرنے کے لیے دوڑ پڑے ہیں۔

سعودی مسافر روزانہ سنیپ چیٹ اور ٹوئٹر اپنے آفیشل اکاؤنٹس کے ذریعہ اپنے سفر کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتا اور دیگر تفصیلات بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وقت گزارنے کیلئے وہ فلاں مقام پر موجود ہے۔ اس دوران وہ لوگوں سے واقفیت حاصل کرتا اور اپنے ایک پڑاؤ کے اہم واقعات سے دنیا کو آگاہ کرکے اگلے سٹیشن کی طرف چل پڑتا ہے۔

پیدل چلنے کا فیصلہ

السلمی نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنی موجودگی کو ایک غیر معمولی انداز میں ثابت کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے فوری طور پر جدہ سے قطر تک پیدل سفر کرنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ سٹینڈز میں موجود شرکا میں شامل ہو سکے۔ السلمی کے مطابق اس نے اس تجربے کے لیے منظم انداز میں تیاری کی ہے۔ ریگستان کے وسط میں کیمپ لگانے میں اپنی مہارتوں پر بھروسہ کیا اور بہت زیادہ سامان اور خوراک ساتھ لیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جزیرہ نما عرب پیدل سفر کے لیے سب سے مشکل جگہوں میں سے ایک ہے وہ ابھی تک اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

السلمی نے بتایا کہ ایک خطے سے دوسرے خطے کا مختلف علاقہ اور خاص طور پر زیادہ درجہ حرارت ان مشکلات میں شامل تھے جن کا مجھے ورلڈ کپ کے سفر کے دوران سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حفاظتی عنصر

اپنی حفاظت کے تناظر میں السملی نے وضاحت کی کہ ان کے پاس ایک ٹریکنگ ڈیوائس ہے جو متعدد لوگوں سے منسلک ہے جو کسی بھی وقت اس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں تاکہ ہنگامی حالات میں مدد کی جا سکے۔ ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس سفر میں میرا ساتھ دیا ہے۔

طویل تجربہ

بتایا جاتا ہے کہ السلمی کو کینیڈا اور آسٹریلیا میں پیدل سفر کا طویل تجربہ حاصل ہے ۔ تاہم وہاں کا سفر جزیرہ نما عرب کو عبور کرنے کی دشواری کے مقابلے میں آسان معلوم ہوتا ہے۔ السلمی نے بتایا وہ عموماً طلوع آفتاب کے وقت نکلتا ہے اور دس یا ساڑھے دس بجے تک پیدل چلتا ہے۔ لیکن اس کے بعد شدید گرمی اسے چند گھنٹے آرام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ چند گھنٹوں پر پھر غروب آفتاب تک پیدل سفر شروع ہوجاتا ہے۔

السلمی شام تک 35 کلومیٹر فی دن کا ہدف طے کرتا ہے ۔ بوجھ کو ہلکا رکھنے کیلئے وہ زیادہ تک گیس سٹینوں پر مہیا کھانا کھاتا ہے۔ یہ کھانا اکثر چاول اور چکن پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان سٹیشنز پر وہ غسل کرتا اور مساجد میں کپڑے بھی دھوتا ہے۔

دنیا سے رابطے

عبد اللہ السلمی سوشل میڈیا پر اپنے سفر کی تفصیلات شیئر کرتا ہے۔ وہ عام زندگی سے لے کر درپیش رکاوٹوں تک، رات کو سونے کے لیے جگہ تلاش کرنے اور اپنے خیمے کے قریب بچھو دیکھنے تک کے حالات سے سوشل میڈیا صارفین کو آگاہ کر چکا ہے۔

راستے میں ملنے والے سعودیوں کے ساتھ اپنی بات چیت بھی ریکارڈ کرتا ہے، بہت سے سعودی اسے سنیکس اور جوس پیش کرتے ہیں ۔

آسان کھیل

السلمی کو امید ہے کہ پیدل سفر کے اپنے تجربے کو بتا کر وہ دوسرے سعودیوں کو بھی اپنے ملک بھر کے دورے کرنے پر غور کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

عبد اللہ السلمی کہا "میں لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ پیدل سفر ایک خوبصورت کھیل ہے، چاہے یہاں سعودی عرب میں موسم سخت ہو، اور علاقہ سخت ہو۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں