شام اور لبنان کے صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

دونوں ملکوں کی سمندری حدود کے تعین کے لیے بات اگلے ہفتے دمشق میں ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سمندر میں توانائی کے ذخائر کی تلاش کے لیے اسرائیل کے ساتھ امریکی سرپرستی میں کیے گئے معاہدے کے بعد اب اعلی سطح کا لبنانی وفد دمشق جائے گا۔ تاکہ لبنان اور شام کے درمیان سمندری حدود کے تعین اور وضاحت کے لیے بات چیت کر سکے۔

یہ پیش رفت اسرائیل لبنان معاہدے کے بعد شام کی طرف سے اس معاملے کو اٹھانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

شام کے صدر بشارا الاسد اور لبنانی صدر مشیل عون کے درمیان فونک بات چیت ہفتے کے روز ہوئی ہے۔ اسی کی روشنی میں لبنانی صدر نے پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکرالیاس بوصعب کو ایک وفد کے ہمراہ شام جانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے ایک سرحدی تنازعے کا شام اور لبنان کے درمیان اس وقت اظہار سامنے آیا تھا جب شام نے مشرقی بحیرہ روم میں روسی توانائی کمپنی کو اپنی سمندری حدود میں ایکسپلوریشن کے لیے لائسنس دیا تھا۔ اس سمندری علاقے کے بارے میں لبنان کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کی ملکیت ہے۔

شامی وفد میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کی قیادت کرنے والی ٹیم کے سبراہ اور ڈپٹی سپیکر کے علاوہ لبنانی وزیر خارجہ اور ٹرانسپورت سے متعلقہ حکام بھی شامل ہوں گے، یہ وفد اگلے ہفتے دمشق پہنچے گا۔

ٹیلی فون پر شامی سدر کے ساتھ بات میں لبنا کے صدر نے کہا ان کا ملک شام کے ساتھ اپنی شمالی سمندری حدود کے معاملے پر بات چیت میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

اس بات چیت کے بعد ہی لبنانی صدر نے پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بوصعب کو شام کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دوسری جانب شام کے ایف ایم ریڈیو نے بتایا ہے کہ لبنانی قیادت سے اس بارے میں صدر بشارالاسد کی بات چیت کی تصدیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں