ایرانی یونیورسٹی میں طلبہ اور فورسزمیں جھڑپیں،ہیکر گروپ کاانٹیلی جنس ویب سائٹ پرحملہ

تہران کی الشریف یونیورسٹی میں جھڑپ، ملک بھر میں سکول اساتذہ کی ہڑتال، ہیکر گروپ نے ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران بھر میں جاری مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے ملک بھر میں زیادہ تر سکولوں نے اتوار کو عام ہڑتال کردی۔

16 ستمبر سے شروع ان مظاہروں کے دوران ایرانی فورسز نے یونیورسٹی طبہ اور سکول کے بچوں کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کے خلاف اساتذہ نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

دریں اثنا "ایران انٹرنیشنل" نیٹ ورک کے مطابق تہران میں شریف انڈسٹریل یونیورسٹی میں ایرانی بسیج فورسز اور متعدد طلباء کے درمیان جھڑپیں ہوگئیں۔ یہ جھڑپیں یونیورسٹی کیمپس میں طلباء کی طرف سے احتجاج کے بعد ہوئیں۔

اسی کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے صوبہ خوزستان میں ٹیچرز چینل کے سیکرٹری جنرل پیروز نامی اور انگریزی زبان کے استاد قزوین اسماعیل خدااری کو گرفتار کر لیا۔ملک کے شمال میں اردبیل گورنریٹ میں ایک ریٹائرڈ استاد غلام رضا اصغری کو بھی گرفتار کرلیا گیا

درجنوں بچے مارے گئے

گزشتہ ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تصدیق کی تھی کہ مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 23 کم سن بچے مارے گئے۔

اسی طرح ایران کی اپوزیشن ’’قومی مزاحمتی کونسل‘‘ نے مظاہرین میں سے 400 سے زائد افراد کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے۔

دوسری طرف احتجاجی مظاہروں کے انفارمیشن قذاقی کے ہیکر گروپ’’ اینونیمس‘‘ نے ملک میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر حملے جری رکھے ہوئے ہیں۔

اتوار کو اس گروپ نے ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر قدغن لگائی اور ایک اس ویڈیو جاری کردی۔

گروپ نے اس ویڈیو کلپ میں یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جو کہ رہا وہ ایرانی عوام کے لئے ایک اہم پیغام ہے۔ گروپ نے تصدیق کی کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایرانی وزارت انٹلیجنس کی سرکاری ویب سائٹ پر حملہ کیا ہے اور یہ خوشی کی ابتدا ہے۔

گروپ نے حکومت کی مخالفت کرنے والے جملے شائع کیے اور ان ہفتوں سے جاری مظاہروں کو دبانے کی مہم کی مذمت بھی کی ۔

ایران آپریشن

یاد رہے کہ اس گروپ نے گذشتہ ماہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا کہ اس نے "ایران آپریشن " شروع کردیا ہے ، جس کی وجہ سے حکومت کی بہت سی ویب سائٹوں میں خلل پڑے گا اور یہ مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا جائے گا۔

اس وقت سے ایران میں بہت سے سرکاری ویب گاہوں کو سائبر اٹیکس سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن ویب سائٹس پر حملے کئے گئے ان میں وزارت مواصلات کی ویب سائٹ ، ایرانی ٹیکس افیئرز اتھارٹی کی ویب سائٹ ، ایرانی انفارمیشن ٹیکنالوجی آرگنائزیشن کی ویب سائٹ اور ایرانی وزارت صنعت ، کان کنی اور تجارت کی ویب سائٹ شامل ہے۔

سرکاری میڈیا سے تعلق رکھنے والی سرکاری ترجمان کی ویب سائٹ کو بھی متاثر کیا گیا۔ "اینونیمس " گروپ نے کہا وہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کا دفاع کر رہا ہے۔ اس سے قبل اس گروپ نے بین الاقوامی کمپنیوں کی کئی ویب سائٹس پر حملہ کیا تھا۔

غم و غصہ سے بھرے مظاہرے

جہاں تک ان حالیہ مظاہروں کا تعلق ہے تو مہسا امینی کی موت نے اس حوالے سے شمع روشن کی۔ اس کے بعد ایران بھر میں متعدد امور پر لوگوں کا غصہ جاگ گیا۔ ان امور میں خواتین سے متعلق لباس کی آزادیوں پر قدغن اور سخت قوانین کا نفاذ بھی شامل ہے۔ اسی طرح معاشی بحران کے خلاف بھی لوگوں میں غصہ ہے۔ حکومتی نظام اور ساسی ڈھانچے کے خلاف بھی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

خواتین نے ان مظاہروں میں بھرپور حصہ لیا ۔ نہ صرف یونیورسٹی اور سکول کے طلبہ احتجاج کر رہے بلکہ مشہور گلوکار، کھلاڑی اور اداکار نے بھی احتجاج میں شمولیت اختیار کی ہے۔

دوسری طرف حکام نے اس احتجاجی تحریک کا پرتشدد مقابلہ کیا ہے۔ جب پولیس نے بہت سے مقامات پر براہ راست گولیاں چلائی ہیں اور سیکڑوں افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں