شام میں حزب اللہ کی اسلحہ یونٹ پر اسرائیلی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی جانب سے دمشق اور اس کے آس پاس کے فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کے دو دن بعد نئی معلومات سے پتا چلا ہے کہ حملوں میں ایک یونٹ کے خصوصی ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جو شام سے لبنان میں حزب اللہ کو اہم فوجی سازوسامان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

باخبر ذرائع نے العربیہ/الحدث کوبتایا کہ جمعہ کو کیے گئے حملوں میں شام سے لبنان تک حساس مواد کو ذخیرہ کرنے اور منتقل کرنے کے لیے تیار کردہ دو گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جن کا تعلق یونٹ 4400 سے ہے جو حزب اللہ کو فوجی مواد کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

قدس فورس کے تعاون سے

ذرائع نے اشارہ کیا کہ الحاج فادی کی قیادت میں اس یونٹ نے حالیہ برسوں میں بہنام شہریاری کی قیادت میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے یونٹ 190 کے تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان بہت سے ہتھیاروں کی منتقلی کی ہے۔

لیکن حالیہ مہینوں میں اس نے اسمگلنگ کی زیادہ خطرناک کوششوں کے ساتھ آغاز کیا اور ایرانیوں کی طرف سے خطرناک اور حساس ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو شامل کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی تھیں۔

تاہم ان ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ اس یونٹ کی سرگرمی بے نقاب ہو گئی ہے اور شام کے اندر اس کی لاجسٹک تنصیبات پر پے در پے بمباری کی نے انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ شامی ریاست الحاج فادی اور ان کی مختلف اکائیوں کے شامی حکومت کے ساتھ تعاون سے متاثر ہوئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران اسرائیل نے شام میں سینکڑوں فضائی حملے کیے، جن میں شامی حکومت کی فوج کے ٹھکانوں اور ایرانی اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں