عدالتی اپیلیں مسترد، اسرائیلی وزیر اعظم لبنان کے ساتھ سرحدی معاہدہ پر آج دستخط

اسرائیلی سپریم کورٹ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے کیخلاف 4 درخواستوں کو مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم یائر لاپیڈ آج جمعرات کو لبنان کے ساتھ سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے پر دستخط کردیں گے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری سرحدی مذاکرات میں امریکی ثالث آموس ہوچسٹین بدھ کے روز بیروت پہنچے تاکہ اس معاہدہ پر دستخط کی تیاری کے لیے مسودے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

اس سے قبل بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہوچسٹین بیروت میں لبنانی صدر میشل عون، پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری اور وزیر اعظم نجیب میقاتی سے ملاقات کریں گے۔ مذاکرات کے سارے عرصہ میں مشاورت اور کھلے پن پرمشتمل جذبہ کے اظہار پر ان کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔

واضح رہے اسرائیل کی سپریم کورٹ کی طرف سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدے کے چار عدالتی چیلنجوں کو مسترد کردیا گیا اور معاہدے کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی۔ معاہدہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی پیشرفت کی نمائندگی کر رہا ہے۔

یاد رہے عدالت نے ان اپیلوں کو مسترد کرنے کی وجوہات نہیں بتائیں۔ سمندری سرحد کی حد بندی کے خلاف یہ اپیلیں بااثر قدامت پسند سیاسی گروپ اور ایک انتہائی قوم پرست اسرائیلی سیاست دان اور دیگر نے پیش کی تھیں۔

لبنان اور اسرائیل بحیرہ روم کے تقریباً 860 مربع کلومیٹر پر دعویٰ کرتے ہیں۔ سمندری پانی کے حقوق پر دعووں کے باعث زیر سمندر قدرتی گیس کے ذخائر کو تلاش کرنے کے حقوق بھی داؤ پر لگے ہوئے تھے۔

اس معاہدہ سے لبنان کو امید ہے کہ اسے گیس کی تلاش کا پروانہ مل جائے گا اور اپنے معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف اسرائیل گیس کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے اور اپنے شمالی پڑوسی کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی بھی امید رکھتا ہے۔

معاہدے کے مخالفین دلیل دیتے ہیں کہ موجودہ عبوری حکومت کو انتخابی مینڈیٹ کے بغیر بحری حدود میں تبدیلی یا ایسے اہم سٹریٹجک فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت میں درخواست دائر کرنے والے قدامت پسند اسرائیلی تھنک ٹینک ’’کوہلیٹ پالیسی فورم‘‘ کے یوجین کونٹورووچ نے کہا تھا کہ "اسرائیل نے ایک بنیادی جمہوری لکیر کو عبور کیا ہے کہ ایک سبکدوش ہونے والی حکومت نے انتخابات سے کچھ روز قبل ایک مخالف ریاست کو خود مختار علاقہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے‘‘

خیال رہے اسرائیل میں جلد ہی اگلے ہفتے چار سال سے بھی کم عرصے میں پانچویں مرتبہ الیکشن ہو رہے ہیں۔

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان محاذ آرائی برقرار رہی ہے۔ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ طویل جنگ ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں