کنیسٹ کے انتخابات میں عربوں کی عدم دلچسپی نے نیتن یاہو کی کامیابی کے امکانات بڑھا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جزیرہ نما النقب کے بدوین قصبے راھط میں اسرائیلی کنیسٹ کے آئندہ انتخابات کے بارے میں لوگوں میں بے حسی غالب ہے۔ ایک ایسے وقت میں انتخابی مہم کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں جب کہ کنیسٹ کے انتخابات کے لیے تین اہم عرب فہرستیں چل رہی ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ کے انتخابات کے حوالے سے مقامی عرب آبادی میں کوئی خاص دلچسپی سامنے نہیں آئی۔

اسرائیل میں ووٹنگ یکم نومبر کو ہو گی۔ ساڑھے تین سال میں اسرائیل میں پانچویں الیکشن ہوں۔ ایمن عودہ کی زیر قیادت ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ ایکویلیٹی اور احمد الطیبی کی قیادت میں عرب فار چینج بھی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اس کے علاوہ سامی ابو شحادہ کی سربراہی میں "ڈیموکریٹک گیدرنگ" پارٹی اور منصور عباس کی سربراہی میں "یونیفائیڈ لسٹ دی اسلامک موومنٹ" بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

عربوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش

راھط کےبلدیہ کے میئر فائز ابو صہیبان جو اسلامی تحریک کے ایک رہ نما ہیں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’’ہمارے لیے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح عرب شہری کو اس کے گھر سے باہر نکال کر پولنگ اسٹیشن تک پہنچایا جائے تاکہ عرب ووٹرز کے ووٹ کا تناسب بڑھایا جا سکے۔ یہ ایک مشکل مسئلہ اور بہت بڑا مخمصہ ہے۔"

ابو صہیبان نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ ایک سے زیادہ عرب لسٹ 3.25 فیصد ووٹوں سے نہیں گزرے گی جو اسے ایک ساتھ چار ارکان کے ساتھ کنیسٹ میں داخل ہونے کا اہل بنائے گی۔ اس کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے پاس زمینوں پر قبضے اور گھروں کو مسمار کرکے اپنے سیاسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم ہوگا۔"

حالیہ انتخابات میں عرب جماعتوں نے کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے صرف 10 پرکامیابی حاصل کی۔ مشترکہ عرب فہرست کے بعد جس نے 2015 میں 15 نشستیں حاصل کی تھیں عربوں کا اتحاد بکھرگیا۔ اس اتحا میں چار جماعتیں شامل تھیں جو اسرائیل میں عرب آبادی کی نمائندگی کرتی تھیں۔

یونائیٹڈ لسٹ کے سربراہ منصور عباس جو موجودہ پارلیمنٹ میں چار نشستوں پرفائزہیں اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے والے پہلے عرب پارٹی رہنما تھے جو یائر لپیڈ اور نفتالی بینیٹ کے درمیان بنیادی اتحاد کے نتیجے میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کا ہدف سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے دور رکھنا تھا۔

امتیازی سلوک کی شکایت

راھط جنوبی اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں بدوین کے سب سے بڑے قصبوں میں سے ایک ہے اور اس کے باشندے بنیادی ڈھانچے میں امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں اور وہ وسیع تر عرب کمیونٹی کا حصہ ہیں۔

شہر کے ایک رہائشی ریاض ابو فریح کا کہنا ہے کہ وہ کنیسٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب پارٹیوں کی موجودگی جعلی جمہوریت کی زینت ہے اور ان کی طرح بہت سے نوجوان بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

حورہ قصبے میں انتیس سالہ رامی ابو شرب جو ایک اسکول ٹیچر ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ ووٹ دیا، لیکن اس بار میں اور میرا خاندان ووٹ نہیں دیں گے۔ ہمیں ان وعدوں میں سے ایک بھی پورا ہوتا نظر نہیں آیا جو انہوں نے ہم سے کیے تھے۔

"اگر عرب ووٹ نہیں دیتے"

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے اسرائیلی محقق تمار ہیرمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اگر عرب ووٹ نہیں دیتے ہیں تو نیتن یاہو کی 61 نشستوں پر کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کی "اس بار ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر ووٹر ٹرن آؤٹ بہت کم رہاتو کسی بھی عرب پارٹی کو پارلیمنٹ میں سیٹ نہیں ملے گی۔ اگر عرب ووٹر ٹرن آؤٹ 45 فیصد ہے تو ان کے پاس امکانات ہوں گے۔"

ہیرمان کا خیال ہے کہ عرب شہریوں اور یہودیوں کے درمیان پُرتشدد تصادم کے حوالے سےمئی 2021 کے واقعات میں شرکت نہ کرنے کے عرب رجحان کا بہت زیادہ تعلق ہے۔عربوں کا ریاست اور سیاسی صورتحال سے بیگانگی کا احساس۔ کنیسیٹ کے اراکین کی کارکردگی سے شدید مایوسی کا اظہار ہے۔

محقق عاص اطرش کا خیال ہے کہ عرب مسلسل اسرائیلی حکومتوں کی پالیسیوں سے مایوسی کی وجہ سے ووٹ دینے سے انکار کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مسئلہ حکومتوں کا ہے نہ کہ عرب کنیسٹ کے اراکین کا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عربوں میں سے کوئی بھی اس کے لیے کوئی سیاسی افق نہیں دیکھتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں