امداد کی آڑ میں شام اور لبنان کو ایران کی طرف سے ہتھیاروں کی منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل شام کے اندر اپنے حملوں کو بڑھانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ باخبر ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ایران انسانی امداد کی نقل و حمل کی آڑ میں کئی محوروں کے ذریعے شام کو ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔

ذرائع نے العربیہ/الحدث کو جمعرات کو بتایا کہ اسرائیل نے شامی مقامات کو نشانہ بنایا جنہوں نے حزب اللہ ملیشیا کو ایرانی ہتھیاروں کی منتقلی میں تعاون کیا۔ ذرائع نے ایرانی اور شامی تنصیبات کے خلاف حملوں میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔

اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جمعرات کی رات دمشق کے ہوائی اڈے کے آس پاس میں اسرائیلی بمباری میں ایرانی فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، ان ٹھکانوں میں سپاہ پاسداران انقلاب میں لبنانی لشکر کے سپورٹ آفس کے ہیڈ کوارٹر کے علاوہ، ماہر الاسد کی قیادت میں شامی فورتھ ڈویژن سے وابستہ مقامات کے علاوہ ایران کو اسٹریٹجک ہتھیاروں اور خطرناک مواد کی منتقلی میں معاونت کرنےوالے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

دمشق کے لیے خطرہ

دریں اثنا اسی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے دمشق کو دھمکی دی ہے کہ اس کےایران کے ساتھ تعاون کی وجہ سے تل ابیب اپنے حملے تیز کر دے گا۔

اس نے اشارہ کیا کہ ایران ہتھیاروں کو تین اہم محوروں کے ذریعے شام میں پہنچاتا ہے اور ہتھیاروں کو انسانی امدادی کھیپ میں لے جاجاتا ہے۔ یہ اسلحہ فضائی راستے، سمندری محور سےایرانی بحری جہازوں کے ذریعے لطاکیہ کی بندرگاہ کی طرف، اور زمینی محور گاڑیوں کے ذریعےعراق کے راستے شام لایا جاتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایرانی اس زمینی محور کو قدس فورس کے یونٹ 190 کی مدد سے بہنام شہریاری کی قیادت میں پاسداران انقلاب اور یونٹ 4400 کے ارکان کی مدد سے استعمال کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں