سعودیہ میں سرمایہ کاری کانفرنس، اسرائیلی بنک نے بھی سرمایہ کاری کا عندیہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی بنک لیومی لی کے چئیرمین نے سعودی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے دوران کہا ہے کہ 'سعودیہ میں سرمایہ کاری کے لیے بڑا پوٹینشل موجود ہے۔' یہ کہہ کر اسرائیلی بنک نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت عندیہ دے دیا ہے۔

سامر الحاج یحیٰ ایک اسرائیلی عرب ہیں اور بنیادی طور پر ان کا تعلق طیبہ سے ہے۔ وہ سعودیہ میں سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے منعقدہ 'فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو' میں شریک ہیں۔

ان کا اسرائیلی بنک سرمایہ کاری کے لیے بڑے قرضے دینے والا بنک ہے۔ اسرائیلی بنک کے چئیرمین کا کہنا تھا 'ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں بہت ساری سرمایہ کاری جاری ہے، ہم بھی اس سرمایہ کاری کا حصہ بننا چاہیں گے چاہے وہ سرمایہ کاری صورت میں ہو اور چاہے کرپٹو کرنسی کی شکل می ہو۔'

اسرائیلی بنک کے سربراہ نے مزید کہا ہماری ممکنہ سرمایہ کاری 'مائیکرو سروسز کے حوالے سے ہو یا کلاوڈ کے حوالے سے ہم اس میں سرمایہ لگانا پسند کریں گے۔'

واضح رہے سعودیہ اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ البتہ اسرائیلی عرب حج کی ادائیگی کے لیے سعودی آتے ہیں۔

سامرالحاج یحیٰ بھی انہی اسرائیلی عربوں میں سے ایک ہیں۔ عرب اسرائیلی آبادی کا بیس فیصد بنتے ہیں۔ تاہم ان کی سرمایہ کاری کاری کانفرنس میں شرکت بطور ایک مسلمان نہیں ہے ایک اسرائیلی بنک کے سربراہ کے طور پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں