لبنان اسرائیل معاہدہ سے خطہ امن کے قریب آئے گا: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان اور اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے راس الناقورہ میں امریکی ثالثی میں درمیان سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس معاہدہ کو تاریخی اقدام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو خطے کو امن، سلامتی اور استحکام کے قریب لاتا ہے۔

انہوں نے کہا یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کو خطے کے لوگوں کو فائدہ دیتا اور زیادہ محفوظ، مربوط اور خوشحال وژن کے حصول کو ایک قدم اور قریب لاتا ہے۔

نیا سبق

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا کہ حد بندی کا یہ معاہدہ دونوں ممالک اور خطے کے مفادات کو آگے بڑھاتا ہے اور خوشحالی اور استحکام کا ایک نیا باب کھولتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ثالث کے طور پر کام کرتا رہے گا تاکہ دونوں فریق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور معاہدے پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا مشرقی بحیرہ روم میں توانائی تنازعہ کی وجہ نہیں بلکہ تعاون کا ایک ذریعہ بننا چاہیے۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی کی جاری کردہ لبنانی سرحد کی تصویر
فرانسیسی نیوز ایجنسی کی جاری کردہ لبنانی سرحد کی تصویر

اسرائیلی حکومت کے ترجمان اوفر جینڈلمین نے ’’العربیہ‘‘ کو اپنے بیانات میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی ریاست کی واضح پہچان ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاہدے پر دستخط حزب اللہ کی رضامندی اور مرضی سے ہوئے تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ جو طویل عرصہ سے صہیونی وجود کو تسلیم نہ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے نے بھی اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں