شام: خواتین کو گولی مار کر گڑھے میں جلانے کی نئی ویڈیو، قاتل تاحال آزاد

2013 میں شامی جنگ کے خونی محاذ ’’التضامن‘‘ کالونی میں ایسے 12 قتل عام کئے گئے: سابق فوجی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دنیا کو 2013 میں شام میں ہونے والے اس خوفناک قتل عام اب بھی یاد ہے اور ان خوفناک کارروائیوں سے متعلق ایک لرزہ خیز ویڈیو کی یادیں ابھی ذہن سے محو نہیں ہوئی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ شام کی ’’ التضامن‘‘ کالونی میں کس طرح درجنوں افراد کو قتل کر کے ایک گڑھے میں پھینکا جا رہا، ان کے ہاتھوں میں بیڑیاں ہیں اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ انکشاف ہونے کے مہینوں بعد بھی اس ’’سانحہ التضامن‘‘ کا سفاک قاتل تاحال مفرور ہے اور اسے پکڑا نہیں جا سکا۔

گزشتہ ویڈیو کے ہولناک انکشاف کے بعد اب ایک اور ویڈیو سامنے آگئی ہے۔

اس نئ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو آگ لگانے سے پہلے خوفناک گڑھے میں پھینکا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ باخبر ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شامی فوج کا انٹیلی جنس افسر جس نے خونریز قتل عام میں شامل اس "التضامن قتل عام" کو انجام دیا تھا، اب بھی دمشق کے باہر ایک فوجی اڈے پر کام کر رہا ہے۔ باوجود یکہ اس پر 12 خونریز کارروائیوں کا الزام ہے، اس سفاک کو حراست میں نہیں لیا جارہا۔

برطانوی اخبار "دی گارڈین" کے مطابق سفاک قاتل کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ قتل عام کے انکشاف کے بعد بھی درندہ صفت "امجد یوسف" شامی انٹیلی جنس کے اہلکاروں میں سے ایک ہے اور کفر سوسہ کے اڈے پر چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے۔

"ہاں میں نے کیا"

اس کے ایک سابق ساتھی نے نشاندہی کی کہ امجد یوسف نے ایک باہمی دوست کے ساتھ فون کال کے دوران قتل کا اعتراف کیا اور کہا "ہاں، میں نے ایسا کیا.. مجھے اس وقت یہی کرنا تھا۔"

سابق ساتھی نے مزید بتایا کہ ان برسوں میں امجد یوسف نے خوفناک شہرت حاصل کی تھی اس وقت امجد کی دل دہلا دینے والی کارروائیوں کے باعث پوری ’’التضامن‘‘ کالونی خوف زدہ تھی۔

خواتین سے اغوا کے بعد زیادتی

سابق ساتھی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امجد دمشق کے مضافاتی علاقے کی گلیوں سے خواتین کو باقاعدگی سے اغوا کرتا تھا، جن میں سے اکثر کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔

اس نے کہا "میں نے اسے ایک صبح دیکھا کہ وہ عورتوں کو بغیر کسی غلطی کے روٹی کی قطار سے لے جا رہا ہے ۔ انہیں یقینی طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا قتل کیا گیا"۔

نئی ویڈیو

اب سامنے آنے والی اس نئی خوفناک ویڈیو میں "قصاب" کو چھ خواتین کو گولی مار کر ایک کھائی میں پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس دوران اس سفاک شخص کا دستہ خواتین کی لاشوں کو آگ میں جلتا دیکھ رہا ہے۔

مناظر میں دکھایا گیا کہ کس طرح اس دستے کے اہلکاروں نے بظاہر اس جنگی جرم کے ثبوت کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے بلڈوزر آنے سے پہلے گڑھے میں آگ لگا دی اور اس پر راکھ اور ملبہ بکھیر دیا۔ اخبار نے نیا ویڈیو کلپ شائع کرنے سے انکار کر دیا۔

12 قتل عام

سفاک امجد یوسف کے سابق ساتھی نے کہا ہے کہ ’’التضامن‘‘ کالونی میں ایک درجن تک ایسے دوسرے قتل عام کیے گئے ہیں اور مقامی آبادی ان واقعات سے بخوبی آگاہ تھی۔

یاد رہے کہ اس قتل عام کی تفصیلات اور اس کے مرتکب کی شناخت ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ہولوکاسٹ اینڈ جینوسائیڈ سٹڈیز کے شامی محقق انصار شہید اور پروفیسر اوگور امت انگور کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی تھی۔

أمجد يوسف
أمجد يوسف

یہ تحقیق ان 27 ویڈیوز کے لیک ہونے کے بعد سامنے آئی جو شامی انٹیلی جنس کی 227 ویں شاخ کے زیر استعمال لیپ ٹاپ سے ڈاؤن لوڈ کی گئی تھیں۔ اس یونٹ میں سفاک امجد یوسف نائب کمانڈر تھا۔

واضح رہے کہ التضامن کالونی 2013 میں شامی افواج اور مسلح اپوزیشن دھڑوں کے درمیان جنگ کا ایک خونی محاذ تھا۔

حراست میں لیے گئے افراد کو گولی مارنے کی اس ویڈیو کو شامی تنازعے کا سب سے خوفناک واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں