لبنان کے ساتھ حد بندی کا معاہدہ حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے: اسرائیلی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان اور اسرائیل نے گزشتہ دنوں امریکی ثالثی میں سمندری سرحد کی حد بندی کے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس معاہدہ سے لبنانی تنظیم حزب اللہ کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ معاہدہ نےحزب اللہ کا بازو مروڑ دیا ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ معاہدہ میں درجنوں صفحوں پر اسرائیل کا نام آیا ہے۔

یائر لاپیڈ نے جمعہ کو اخبار ’’یروشلم پوسٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک معاہدہ ہے جس میں 20 سے زائد مرتبہ اسرائیل کا نام لیا گیا ہے، یہ حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ایرانی فنڈ سے چلنے والی یہ پارٹی اس سے بالکل مطمئن نہیں تھی۔ لیکن اس معاہدہ کو تسلیم کرنے پر مجبور تھی کیونکہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

میرے پاس حزب اللہ کا بازو ہے

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کو اس معاہدہ کی اشد ضرورت تھی، اور اسی لیے ہم حزب اللہ کے بازو کو مروڑ کر اسے کچھ ایسا کرنے کے لیے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئے جو اس نے پہلے نہیں کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے یہ دعوے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے زیر کنٹرول ریاست کو بہت زیادہ دے دیا ہے یا اس معاہدے کو کنیسیٹ میں ووٹ کے لیے نہ لا کر غیر جمہوری طریقے سے کام کیا ہے، بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا "وزارتوں کی کونسل سے لے کر سپریم کورٹ تک سب نے حد بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا۔"

ایران کی دھوکہ دہی اور جھوٹ

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ اور فریب ایرانی پالیسی کا بنیادی ہتھیار ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ میں محتاط تھا کہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے بارے میں کوئی عوامی بیانات نہ دوں تاکہ وہاں کے حکام میرے کسی بیان کو مظاہرین کے خلاف استعمال نہ کریں۔

یاد رہے لبنان اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدہ کے امریکی ثالث آموس ہوچسٹین نے بھی اس معاہدہ کو تاریخی قرار دیا تھا۔

یہ آسان نہیں تھا

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس اتفاق رائے تک پہنچنا کوئی آسان بات نہیں تھی، کیونکہ 2020 میں شروع ہونے والے مذاکرات کئی بار پٹڑی سے اتر چکے تھے۔ تاہم جون کے آغاز سے ان مذاکرات میں اس وقت تیزی آگئی جب پیداوار اور ذخیرہ کرنے والا بحری جہاز کریش فیلڈ کے قریب لنگر انداز ہوا۔ کارش فیلڈ کو لبنان متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے۔

اب نئے معاہدے کے تحت کریش کا میدان مکمل طور پر اسرائیل کے زیر تحت آگیا ہے۔ قنا کے میدان کا لبنان کے ساتھ الحاق کر دیا گیا۔

قنا فیلڈ والے علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کیلئے فرانس کی ٹوٹل اور اٹلی کی اینی کمپنی کو ٹھیکے دئیے گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ لبنان اب بھی تیل اور گیس کے وسائل نکالنے سے بہت دور ہے اور اس میں اسے پانچ سے چھ سال لگ سکتے ہیں۔

واضح ہو کہ لبنانی حکام معاشی تباہی کے اثرات پر قابو پانے کیلئے قدرتی وسائل کی موجودگی پر بھروسہ کر رہے ہیں ۔ ملک میں تین سالوں سے معاشی تباہی کا دور دورہ ہے۔ عالمی بینک نے لبنان کو 1850 کے بعد سے دنیا کے بدترین ممالک میں شمار کیا ہے۔ لبنان میں 80 فیصد سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں