ایرانی پولیس کا تہران کی یونیورسٹیوں کا محاصرہ، طلباء کے "خامنہ ای قاتل " کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے دارالحکومت تہران کی متعدد یونیورسٹیوں میں کل ہفتے کے روز دوبارہ مظاہروں کے بعد سکیورٹی فورسز نے طلباء کا محاصرہ کرنے کے لیے کارروائی کی۔

ایرانی سماجی کارکنوں کی طرف سے شائع کردہ ویڈیو کلپس میں پاسیج ملیشیا کے مسلح عناصر کو تہران کی یونیورسٹی آف ریسرچ سائنسز کے طلباء پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایران کے انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق سکیورٹی نے دارالحکومت کی سوہنک یونیورسٹی کو بھی گھیرے میں لے لیا۔ اس پرطلبا کو شہریوں اور اپنے خاندانوں کو آکر محاصرہ توڑنے کی درخواست کرنا پڑی۔

خامنہ ای قاتل کے نعرے

تہران یونیورسٹی کے کالج آف ٹیکنالوجی میں مظاہرین نے نعرے لگائے، "فالج زدہ ہاتھ کا مالک (ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای) شیراز حملے کا ذمہ دار اور مقتولین کا قاتل ہے کے نعرے لگائے۔

دریں اثناء دارالحکومت کی امیر کبیر یونیورسٹی میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور مظاہرین نے خامنہ ای کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

کرج کی الخوارزمی یونیورسٹی میں بھی طلباء نے مظاہرہ کیا۔

شمال مشرقی شہر مشہد میں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی، جہاں پاسیج فورسز اور شہری لباس میں ملبوس سکیورٹی فورسز نے فردوسی یونیورسٹی کے طلباء پر حملہ کیا۔ یہ یونیورسٹی حکومت کے خلاف طلباء کے احتجاج کا مرکز رہی ہے۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم "ہینکاؤ" کے مطابق ایران سکیورٹی فورسز نے کردستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے طلباء کی قریبی رہائش گاہ پر فائرنگ کی۔

اس کے علاوہ، سنندج (مغربی) میں کوتھر ہسپتال کے باہر جمع ہونے والے درجنوں لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں جو دیواندرا میں محسن محمدی نامی ایک شہری کے چہلم پر جمع تھے۔اس موقعے پرمظاہرین نے "آمر مردہ باد" کے نعرے لگائے۔

ایران کی انسداد فسادات پولیس نے 28 سالہ محمدی کو 19 ستمبر کو دیواندرا شہر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔ اگلے دن وہ کوثر اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں