سعودیہ میں 'تھری ڈی ٹیکنالوجی ' سے پہلا رہائشی ولا شمس الریاض مکمل ہو گیا

کنکریٹ، وقت ، افرادی قوت اور توانائی کی بچت کے ساتھ پورے خطے میں تعمیراتی انقلاب کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی تعمیراتی کمپنی دارالارکان نے ' تھری ڈی ٹیکنالوجی ' کے حوالے سے دومنزلہ 'ولاز'کی تعمیر کا ابتدائی منصوبہ آگے بڑھا لیا ہے اور اب تک ایک رہائشی ولا مکمل کر لیا ہے، جبکہ دوسرے ولا کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔

اس میں ابتدائی طور پر بنانئے گئے رہائشی ولا کی اونچائی 9 میٹر ہے۔ دارالحکومت میں اسے شمس الریاض کے نام سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں 'تھری سی ڈی پی ٹیکنالوجی ' کے استعمال کے حوالے سے یہ خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔ اس میں تحفظ کے پہلو کو فوقیت دی گئی ہے اور ضیاع اور غلطیوں کو کم کرنے پر فوکس کیا گیا ہے۔

دارالارکان کی طرف سے 'تھری ڈی سی پی ٹیکنالوجی ' کے تحت 2021 کی آخری سہ ماہی میں شروع کیا تھا۔ یہ منصوبہ ویژن 2030 کے مطابق ہے۔

اس کے ذریعے غیرروایتی گھروں کی تعمیر کے طریقے اختیار کیے گئے ہیں، تعمیراتی وقت بچایا گیا ہے روایتی تعمیراتی طریقے کے تحت دوگنا ہوتا ہے۔ اب اس طریقہ کے مطابق نصف رہ گیا ہے۔

اس ' تھری ڈی ٹیکنالوجی ' کے استعمال سے افرادی قوت کا استعمال بھی کم ہوا ہے۔ وقت کا ضیاع بھی روکا گیا ہے اور زخمی ہونے والے واقعات بھی۔ اس جدید ٹیکنالوجی میں کنکریٹ کا استعمال بھی کم ہو گا۔ اس کے باوجود مکان کی پائیداری متاثر نہیں ہوگی۔

اس منصوبے کے مینیجر وائل الھجان نے بتایا 'دارالارکان فی الحال دوسرا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک ماہ کی ضرورت ہے مگر ہم نے اس کی پہلی منزل صرف آٹھ دنوں میں مکمل کر لی ہے۔ اس ' تھری ڈی پرنٹ' کے منصوبوں میں موصل تہوں کی وجہ سے توانائی کی 30 فیصد بچت ہوتی ہے۔ '

انہوں نے کہا ' ہم چاہتے ہیں کہ صنعتی شعبے کے ماہرین وزٹ کریں اور اس پہلے مکمل کیے گئے رہائشی ولا کو بھی دیکھیں اور دوسرے زیر تعمیر رہائشی ولا کے تعمیراتی مراحل کو بھی دیکھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں