سعودی عرب میں مالی فراڈ میں ملوث گینگ بے نقاب، کیس کی تحقیقات

ملزمان متاثرین سے رابطہ کرتے، انہیں یہ دھوکہ دیتے تھے کہ وہ مالیاتی ایجنسیوں کے نمائندے ہیں، پھر ان کا خفیہ ڈیٹا چراتے ان کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے اوران کی رقوم چھین لیتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذریعے نے اتوار کو بتایا کہ منی پراسیکیوشن نے ایک شہری اور 6 ایشیائی باشندوں پر مشتمل ایک مجرمانہ گینگ کا پتا چلانے کے بعد اس کیس کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ ملزمان لوگوں کے سامنے خود کو مالیاتی اداروں کے نمائندے ظاہرکرکے ان سےدھوکے سے پیسے بٹورتے اور ان کے بنک اکاؤنٹس سے پیسے چوری کرتے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملزمان متاثرین سے رابطہ کرتے تھے اور انہیں یہ دھوکہ دیتے تھے کہ وہ مالیاتی اداروں کے نمائندے ہیں۔ پھر ان کا خفیہ ڈیٹا حاصل کرتے، ان کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے اور ان سے رقم چوری کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفتیشی طریقہ کار سے یہ بات سامنے آئی کہ شہری نے ٹیلی کمیونیکیشن کی سرگرمیوں میں کمرشل ریکارڈ نکالا اور تارکین وطن کو ان کے علم کے بغیر لوگوں کے شناختی نمبروں کے ساتھ سم کارڈ نکالنے کے قابل بنایا۔

مجرمانہ گینگ میں لوگوں کے 2,000 سے زیادہ فنگر پرنٹس حاصل کر رکھے ہیں جنہیں آسانی سے استعمال کرنے اور شناخت کی تصدیق کے آلے پر منتقل کرنے کے لیے کاغذات میں محفوظ کرکے رکھا گیا۔

ذریعے نے تصدیق کی کہ مذکورہ افراد کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف الزامات میں گرفتاری کی ضرورت تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کیس میں جرم انسداد مالیاتی فراڈ اور اعتماد کے نظام کی خلاف ورزی کے مطابق سخت مجرمانہ احتساب کا مطالبہ کرتا ہے۔

ذرائع نے زور دے کر کہا کہ پبلک پراسیکیوشن مجرموں کو مجاز عدالت سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا تاکہ اس سلسلے میں مقرر کردہ سزاؤں کا مطالبہ کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں