امارات کے مردوں میں پروسٹیٹ کا کینسر بڑھنے کے واقعات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مردوں میں پروسٹیٹ کا سرطان متحدہ عرب امارات میں پانچ عمومی بیماریوں میں سے نمایاں بیماری ہے۔ اس بیماری میں ان دنوں زیادتی دیکھی جارہی ہے۔ اس امر کا انکشاف امارات میں ایک ڈاکٹر نے ' العربیہ ' سے بات چیت کے دوران کیا ہے۔

ڈاکٹر کے بقول مردوں کو باقاعدہ اپنے طبی معائنے کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے۔ یہ بات مذکورہ ڈاکٹر نے مردوں کی صحت سے متعلق آگاہی کے سلسلے موومبر کے موقع پر بتائی ہے۔ ڈاکٹردیپک نے کہی ہے۔

ڈاکٹر کے بقول مرد حضرات عام طور پر کاموں میں اتنے مگن رہتے ہیں کہ انہیں اپنی بیماری کی طرف متوجہ ہونے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے۔

اس لیے اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے بہت کم لوگ بطور مریض ہمارے پاس آتے ہیں جو باقاعدگی سے اپنا طبی معائنہ کراتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اپنا معائنہ نہیں کراتے ان کی بڑی تعداد مریض بن کر آنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں نے کبھی اپنا معمول کا چیک اپ نہیں کرایا ہوتا ۔

ڈاکٹر کے مطابق پروسٹیٹ کینسر مردوں میں کینسر یا سرطان کی دوسری بڑی قسم ہے جو زیادہ تر لوگوں کو ہوتی ہے۔ چونکہ اس کی علامات ظاہر کم ہوتی ہیں اس لیے عام طور پر لوگ اپنے طبی معائنے کا اہتمام نہیں کرتے ہیں۔

دبئی کے برجیل میڈیکل سٹی میں یورالوجی اور یورو آنکولوجی کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رشکیش رامیش پانڈیا کے بقول بہت سے مرد اپنی ضروریات کے پیش نظر بہت سے مسائل اور عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گھروں سے دور تنہائی کی وجہ سے بھی ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

پروسٹیٹ کا پہلے پتہ چلنے کا امکان :

اس کے لیے ڈاکٹروں کا ضروری مشورہ یہی ہے کہ 45 سال کی عمر کے بعد پروسٹیٹ کا مخصوص ٹیسٹ ' پروسٹیٹ سپیسفک اینٹیجن' ( پی ایس اے ) ہر سال کرانا چاہیے۔

ڈاکٹر جناز دھنن کے مطابق پروسٹیٹ کا مرض بعض لوگوں میں موروثی بھی ہوتا ہے۔ اس کی علامات اس وقت تک سامنے نہیں آتیں جب تک یہ پھیل نہیں چکا ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص بھی اپنی صحت کے لیے فکر نہیں کرتا تو یہ خطرہ رہے گا کہ پروسٹیٹ کے مرض کو شروع میں قابو نہ پایا جائے۔

شروع میں پروسٹیٹ کی بیماری کا پتہ چل جانے سے اس کی سرجری بھی ممکن رہتی ہے۔ بصورت دیگر پروسٹیٹ کی بیماری ہڈیوں اور دوسرے اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پھر مکمل صحت بحالی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر پانڈیا کے مطابق پروسٹیٹ کے کینسر کا شروع میں پتہ چل جانا بہت مفید ہوتا ہے کہ اس صورت اس کا علاج ممکن ہوتا ہے۔

ہر کینسر سے بچا جا سکتا ہے اگر اس کا بروقت اور مناسب علاج شروع کر دیا جائے۔ ڈاکٹر پانڈیا کا کہنا ہے شروع میں لوگ کوتاہی اور ہچکچاہٹ کا شکار ہوکر نقصان کر لیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں