روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی امارات اور سعودی عرب میں کارروائیاں تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی زبان بولنے والوں کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ کمپیوٹر ہیکنگ، پاس ورڈ چوری اور دوسروں کے کریڈٹ کارڈز کے استعمال میں قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات ' گروپ۔ آئی بی' نامی ایک کمپنی نے اپنی تیار کردہ رپورٹ میں ظاہر کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ روسی زبان بولنے والے لوگوں نے رواں سال کے دوران پہلے سات ماہ میں 6300 الیکٹرنکس آلات یا مشینیوں کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

جبکہ سات لاکھ کمپیوٹرز یا دوسری چیزوں کے ' پاس ورڈز ' چوری کیے ہیں۔ اس طرح 1300 سے زیادہ افراد کےکریڈٹ کارڈز کی تفصیلات کا حصول ممکن بنایا۔ تاہم سعودی عرب میں یہ وارداتیں مقابلتاً کم ہوئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں اس طرح کے واقعات زیادہ سامنے آئے ہیں۔ امارات میں سینکڑوں ڈیوائسز ، کریڈٹ کارڈز اور دوسرے الیکٹرانک آلات کو ہیک کر لیا گیا۔

یہ گروپ غلط آلات کے استعمال سے انفارمیشن چوری کرتے اور اس کو اپنی مرضی کے مطابق چھانٹتے ہیں۔ پھر اس انفامیشن کو سوشل میڈیا اکاونٹس کے زریعے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔

' گروپ ۔ آئی بی ' اس سے پہلے بھی اسی نومبر میں بتایا تھا کہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر نے ایک بڑی ریکروٹمنٹ کمپنی کو بھی سعودیہ میں ہیک کر لیا تاکہ اس سے متعلق افراد اور بنکوں تک رسائی ممکن بنا سکے ، یہ کام بنکوں سے رقم چوری کرنے کے لیے کیا گیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق سائبر سکیورٹی فرم نے پتہ چلایا ہے کہ کمپیوٹرز سے متعلق جرائم میں ملوث افراد نے سعودی کمپنیوں کے 1000 سے زائد جعلی ورژنز بنائے۔ تاکہ لوگوں اشتہارات بذریعہ سوشل میڈیا متاثر کر سکے۔ ان عناصر نے جولائی میں سائبر کرائمز کی مہم کو زیادہ وسعت دے دی ہے۔

ماضی میں دس سال قبل 2012 میں سعودی عرب کی معرف کمپنی ' آرامکو' کی ہیکنگ ایک بڑا ایشو بنی تھی۔ یہ ایک بڑی ہیکنگ کا واقعہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں