دردناک کہانی: معذور سعودی ہاشم اور فاطمہ کے علاج کا طویل سفر

شمالی سرحدوں کے گورنر شہزادہ فیصل نے دونوں کی عیادت کی، علاج معالجے کی ہدایت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں دو بہن بھائی ہاشم اور فاطمہ کے خاندانوں نے اپنے مریض بچوں کے علاج میں لگ کر تھکاوٹ اور درد کا ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ حال ہی میں شمالی سرحدوں کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز نے ان بچوں کی عیادت کی اور دونوں کے علاج معالجے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

جینیاتی بیماری

تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں بچوں کی ماں ھبہ ابا الخیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ اپنے بچے ہاشم کے جینیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا علم ہونے کے بعد سے مشکل حالات میں خاندان کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہیں۔ یہ بیماری پیدائش پر ہی ظاہر ہو گئی تھی اور اس بیماری سے ہاشم کے چہرے کے خدوخال اور گردن کا سائز بڑھ گیا تھا۔ ریاض کے آرمڈ فورسز ہسپتال میں ہاشم کا علاج کیا گیا اور میرو ٹرانسپلانٹ کے ذریعے علاج کے لیے انھیں سنگاپور بھی لے جایا گیا لیکن علاج کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور انھیں مملکت واپس بھیج دیا گیا۔

بعد ازاں بیماری پہلے سے بھی بڑھ گئی اور ہاشم کو دل کی ناکامی اور سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کیلئے آکسیجن پر منتقلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ اسے دمہ، مرگی کے دورے اور مکمل دماغی فالج کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اس کی دیکھ بھال کرنا بہت مشکل ہوگیا۔ صرف میں ہی ہوں جو اکیلی اس کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ نوکرانی کی سہولت میسر نہیں۔ ہاشم کی عمر اب 16 ہوگئی ہے اور مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

ہائپوکسیا (آکسیجن کی کمی کی بیماری)

ہاشم کے علاوہ ھبہ کی ایک 8 سال کی بیٹی فاطمہ بھی بھی ہے جو قبل از وقت پیدا ہوئی تھی اور آکسیجن کی کمی کا شکار تھی جس کی وجہ سے اسے دماغی فالج، ہیمپلیجیا اور آنکھوں میں جھرجھری پیدا ہوئی تھی۔ وہ طارق ہسپتال میں زیر علاج ہے جس میں اس کی فزیوتھراپی کی جاتی ہے اور اس کی بحالی کیلئے فزیو تھراپی کا شعبہ بھی سرگرم ہے۔ تاہم اسے مزید علاج کی ضرورت ہے۔ جب ریاض کے ایک ہسپتال میں علاج کی درخواست بھیجی گئی تو اسے دور دراز کے کلینک میں علاج کی منظوری مل گئی جس کی وجہ سے ایک ساتھ دونوں بچوں کی دیکھ بھال کرنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔

تھکاوٹ کا احساس

ھبہ ابا الخیل نے مزید بتایا کہ وہ اب شدید تھکاوٹ اور سختی محسوس کرتی ہے، اپنے معذور بچوں کو علاج کے لیے لے جانے کے لیے کوئی ملازمہ یا گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہوگئی ہیں۔ ھبہ ابا الخیل نے تریف میں معذوروں کی انجمن کا شکریہ ادا کیا اور طارق ہسپتال کے جامع بحالی اور فزیوتھراپی کے شعبہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

شہزادہ فیصل کا دورہ

ھبہ ابا الخلیل کی مشکلات میں کمی کا مرحلہ اس وقت آ گیا جب شمالی سرحدی علاقے کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز نے طائف میں معذوروں کی ایسوسی ایشن کی طرف سے بچوں کی حالت زار سے آگاہ کرنے کے بعد اہل خانہ سے ملاقات کی اور بچوں کے علاج مکمل کی ہدایت جاری کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں