عراق کی سرزمین پرسرحدپارحملوں کے بعد بغداد میں ایرانی اور ترک سفیروں کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق نے اپنی سرزمین پرسرحد پارحملوں اور اپنی سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد جمعرات کو بغداد میں متعیّن ایران اور ترکیہ کے سفیروں کو طلب کیا ہے۔

عراقی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹراحمد الصحاف نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران اور ترکیہ دونوں کی جانب سے سرحدپار سے کیے جانے والے حملے علاقائی سطح پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں خلل انداز ہورہے ہیں۔

عراق کی وزارت خارجہ نے اس امرکی بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو تازہ سرحدی خلاف ورزیوں کے بارے میں مطلع کیا ہے۔

الصحاف نے مزید کہا کہ اس سے الرٹ کی سطح اور تناؤ میں اضافہ ہوگا۔نیزاس سے عراق کے ایران اور ترکیہ دونوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے۔

منگل کے روزایران نے عراق کے نیم خود مختار شمالی کرد علاقے میں مقیم ایرانی کرد باغی گروپوں پرنئے حملےشروع کیے تھے۔

کچھ ایرانی کرد گروہ 1979 میں برپاشدہ انقلاب کے بعد سے تہران کے ساتھ کم شدت کے تنازع میں مصروفِ کارہیں اور وہ پڑوسی ملک عراق کے شمالی علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں انھوں نے اپنے عسکری اڈے قائم کررکھے ہیں۔

ایران ان کرد گروہوں پر یہ الزام عاید کرتا ہے کہ وہ ملک میں لوگوں کو حالیہ حکومت مخالف مظاہروں پر اکسا رہے ہیں اور ملک میں اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں جبکہ ایرانی کرد گروپ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔تاہم ایران نے اپنے ان دعووں کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

ترکیہ نے گذشتہ اتوار کو شمالی عراق پرالگ مہلک فضائی حملے کیے تھے،ان میں ترک نژادکرد گروپوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔انقرہ حکومت نے ان پر13نومبر کو استنبول میں تباہ کن بم دھماکے میں ملوّث ہونے کا الزام عایدکیا ہے۔ترک حکام نے اس بم دھماکے کے الزام میں ایک شامی کردعورت کو گرفتار کیا تھا اور اس نے مبیّنہ طورپر کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے اپنے تعلق کا اعتراف کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں