اسرائیل: خطے میں امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ سرگرمیاں بڑھائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی چیف آف جنرل سٹاف ایویو کوچاوی نے خطے میں امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ سرگرمیوں میں نمایاں طور پر بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا اسرائیلی فوج مشرق وسطیٰ میں ایرانی حکومت کی "پوزیشننگ" کے خلاف تیز رفتاری سے کام کرے گی۔

ٹوئٹر پر اسرائیلی فوج کے اکاؤنٹ پر کوچاوی کے امریکہ کے دورے سے واپسی کے بعد کہا گیا ہے کہ "خطے میں چیلنجز کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل قریب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مشترکہ سرگرمی کو بہت وسیع کیا جائے گا "

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویکائی اردرئی نے ٹویٹر پر کہا کہ اداروں کے درمیان مشترکہ اجلاس میں خطے کو درپیش چیلنجز پر بات کی گئی خاص طور پر ایران سے لاحق چیلنجز کو دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ سرگرمیوں اور خصوصی ٹیموں کی تشکیل پر مبنی روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے واشنگٹن میں ایویو کوچاوی سے ملاقات کی اور کئی سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ جیک سلیوان نے "اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکی انتظامیہ کی پختہ حمایت کی تصدیق کیاور دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی سلامتی کے وسیع مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔"

ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں

ایڈرین واٹسن نے مزید کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر اور اسرائیلی چیف آف سٹاف نے "مشرق وسطیٰ کو متاثر کرنے والے سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان چیلنجز میں ایران اور اس کی پراکسیز سے لاحق خطرات بھی شامل ہیں۔

اخبار ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘گذشتہ منگل کو فوج کے حوالے سے کہا تھا کہ کوچاوی نے اپنے دورے کے دوران امریکی فوجی حکام سے کہا تھا کہ دونوں ممالک کی فوجوں کو ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے منصوبے کے طور پر اقدامات میں تیزی لانی چاہیے۔

یہ پیش رفت ایران کی جانب سے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جو تہران کے جوہری معاہدے کے تحت طے شدہ 3.67 فیصد حد سے کہیں زیادہ ہے۔ یاد رہے ایٹم بم بنانے میں 90 فیصد افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے 60 فیصد تک افزودہ کرنا یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں