اوپیک پلس فیصلے کی بھرپور پاسداری کی جائے گی: سعودی عرب اور عراق کا اظہار عزم

ضرورت پڑی تو عالمی منڈیوں میں توازن کے لیے دیگر اقدامات بھی کئے جا سکتے: سعودی اور عراقی وزرائے توانائی کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور ان کے عراقی ہم منصب حیان عبدالغنی نے اوپیک پلس گروپ کے فریم ورک کے اندر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا اگر ضرورت پڑی تو عالمی منڈیوں میں توازن اور استحکام کے حصول کے لیے دیگر اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔

سعودی وزارت توانائی کی طرف سے جمعرات کو عراقی ہم منصب کے ساتھ ملکر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں وزرا نے اوپیک پلس گروپ کے حالیہ فیصلے پر عمل کیلئے اپنے ملکوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اوپیک پلس کے فیصلے کی مدت 2023 کے آخر تک ہے۔

اوپیک پلس پیداوار میں کمی کا فیصلہ

واضح رہے اوپیک پلیس اتحاد میں پٹرولیم پروڈکٹس برآمد کرنے والے ملکوں کی تتنظیم اوپیک اور روس کی قیادت غیر اوپیک پروڈیوسرز شامل ہیں۔ اوپیک پلیس نے اکتوبر میں اتفاق کیا تھا کہ 2023 کے آخر تک پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کی جائے گی۔

سعودی وزیر توانائی یہ بھی کہ چکے ہیں کہ 4 دسمبر کو اوپیک پلس گروپ کا اجلاس ہے جس میں ضرورت پڑنے پر تیل کی پیداوار میں مزید کمی کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں