ایران میں مظاہروں کے دوران 40 بچے مارے جا چکے ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں گذشتہ ستمبر میں ایک نوجوان لڑکی مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے موت کے بعد پھوٹنے والے احتجاجی مظاہروں میں بچوں کی ہلاکتوں پرعالمی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جمعرات کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے آغاز پر کہا کہ ایران میں احتجاج کے آغاز سے اب تک 14000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 300 سے زیادہ ہلاک ہونے والوں میں 40 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں۔

پھانسیوں میں اضافہ ہوا

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے کہا کہ عدالتی حکام کی جانب سے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سات افراد کو اب تک سزائے موت دی جا چکی ہے۔ ایران میں احتجاج کرنے والے شہریوں کو سزائے موت دینے کے واقعات میں اضافے پر بھی انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران میں انسانی حقوق کا ایک وسیع بحران ہے۔ انہوں نےایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ طاقت کے غیر ضروری اور غیر متناسب استعمال کو روکیں۔

وولکر ترک نے کہا کہ ایران نے دو ماہ قبل 22 سالہ مہسا امینی کی موت کی جو تحقیقات کیں وہ بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ’یو این ایچ سی آر‘ نے ایرانی حکام سے ملک کا دورہ کرنے اور صورت حال کا معائنہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا۔

ایران کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی تفتیش کار نے کرد علاقوں کی صورت حال کو تشویشناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام نے مظاہروں کے بارے میں "بے بنیاد" رپورٹیں پیش کی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ اینالینا بربوک نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انسانی حقوق کونسل کے ارکان مظاہرین کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کو دستاویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنیوا میں اجلاس میں شرکت سے قبل کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ایران کے عوام کے ناقابل تقسیم حقوق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔"

انہوں نے 47 ممالک کی کونسل کے سامنے ایران میں مظاہرین کے ساتھ "ناانصافی، مار پیٹ اور فائرنگ کے خلاف آواز بلند کرنے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں