اسرائیلی صدر کا فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی "یہودی پاور پارٹی‘‘ کے سربراہ، ایتمار بن گویر جن سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ اگلی بنجمن نیتن یاہو کی حکومت میں مغربی کنارے میں پولیس پر اختیارات میں توسیع کے ساتھ قومی سلامتی کے وزیر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ وہ اسرائیلی آرمی چیف کےساتھ ایک بحث میں الجھ پڑے۔ اس الجھن پر بن گویر کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بن گویر اور آرمی چیف کے درمیان یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ایک فوجی نے غرب اردن میں بائیں بازو کے کارکنوں کا ایک مذاق اڑایا۔ اس پر بن گویر نے مذاق اڑانے والے فوجی اہلکار کودس دن جیل بھیجنے کے فیصلے پر فوجی قیادت پر تنقید کی۔

بین گویر نے اس فوجی کی 10 دن کی قید پر تنقید کی۔ اس کی فلم بندی کے بعد جمعے کو شورش زدہ شہر الخلیل میں فلسطینی حامی کارکنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "بین گویر اس جگہ کی خصوصیات کو تبدیل کر دے گا۔"

بین گویر نے منگل کو ٹویٹر پر لکھا کہ یہ فیصلہ "انتہائی سخت اور فوجیوں کے عزم کو کمزور کرتا ہے" اور مطالبہ کیا کہ فرد جرم جسے انہوں نے "جعلی" قرار دیا اسے فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔

وہ فوجی کے والد کے ساتھ ایک ویڈیو کلپ میں بھی نظر آئے جس میں انہوں نے فوج سے سزا پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

فوج نے ٹویٹر کے ذریعے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بٹالین اور بریگیڈ کے کمانڈروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں جس سے فوجی کا تعلق ہے کہ "ہم بائیں یا دائیں بازو کی طرف سے کسی بھی سیاست دان کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کمانڈروں کے فیصلوں یا فوج کو سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔"

بین گویر واپس آئے اور چیف آف سٹاف پر بھی ٹویٹر کے ذریعے نامناسب سیاسی بیانات دینے کا الزام لگایا اور واضح کیا کہ ان کا کمانڈروں کی طرف سے اٹھائے گئے تادیبی اقدامات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے، بلکہ پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

بین گویر نے مزید کہا کہ ’’یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جب وزیر دفاع کام نہیں کر رہا ہوتا ہے اور پالیسی مرتب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے تو قیادت کا خلا پیدا ہوتا ہے‘‘۔

اس تنقید کو اسرائیل میں قیادت کی جانب سے ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے ایک تقریب میں کہا کہ اخلاقی بحث ہونا ضروری ہے لیکن "اسرائیلی فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے"۔

نیتن یاہو نے ٹوئٹر پر فوج کو کسی بھی ’’سیاسی بحث‘‘ سے دور رہنے کا مطالبہ کیا۔

نیتن یاہو کی لیکود پارٹی نے جمعہ کے روزکہا کہ اس نے "یہودی پاور پارٹی " کے ساتھ وزارتی عہدوں پر معاہدہ کیا ہے، جب کہ دائیں بازو کے دھڑوں پر مشتمل فہرست یکم نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں تیسرے نمبر پر آئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں