گاڑیوں کی مرمت پر سزا کے باوجود یہودی آباکار فلسطینی ورکشاپوں کا رخ کیوں کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکام کی جانب سے ایسا کرنے والوں کو تین سال تک قید کی سزا کے اشارے کے باوجود یودا آران نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی مرمت کی دکانوں میں اپنی گاڑی کی دیکھ بھال نہیں روکی۔ اسرائیلی حکام کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ فلسطینیوں سے اپنی گاڑیوں کی مرمت کرنا خطرناک رجحان ہوسکتا ہے۔

مالی اخراجات میں بہت زیادہ فرق کی وجہ سے یودا 50 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرنے کے بعد اپنی گاڑی کی مرمت کے لیے اکثر الخلیل شہر کا رخ کرتا ہے۔

مغربی کنارے میں گاڑی کے بریکوں کو تبدیل کرنے کی قیمت 40 ڈالر سے کم ہے لیکن اسرائیل میں کمپیوٹر چیک کے ساتھ 150 ڈالر سے زیادہ رقم دینا پڑتی ہے۔

'ان کی جان کو خطرہ ہے'

یودا اسرائیلی پولیس کو خبردار کرنے کی زحمت نہیں کرتا کیونکہ وہ شہر کے وسط میں واقع ایک ورکشاپ میں اپنی گاڑی کی دیکھ بھال کے بعد الخلیل کا دورہ کرنے گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور اس سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ورکشاپس میں گاڑیوں کی دیکھ بھال "کام کی کارکردگی اور نصب اسپیئر پارٹس کے لحاظ سے غیر محفوظ ہے۔"

پولیس کا کہنا ہے کہ"یہ ممکن ہے کہ وہ گاڑیاں جن کی مغربی کنارے میں مرمت کی جا رہی ہے، دہشت گرد تنظیموں کا ہدف ہوں، کیونکہ ان کے ذریعے اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر قانونی ہتھیار متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔"

اسرائیلی پولیس نے نہ صرف فلسطینیوں کی ورکشاپس میں مرمت کا انتباہ دیا بلکہ ان کی فورسز نے شمالی مغربی کنارے میں قلقیلیہ گورنری کے نبی الیاس گاؤں میں ان میں سے ایک پر دھاوا بول دیا۔

ان فورسز نے اسرائیلیوں کی نو گاڑیوں کو ضبط کر لیا، جو انہیں دیکھ بھال کے لیے ورکشاپ میں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے مالکان کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا اور انھیں اسرائیلی قانون کی ممانعت سے آگاہ کیا۔ انہیں تین سال تک قید کی سزا کی یاد دلائی۔

یہ قدم جنین کیمپ سے فلسطینی بندوق برداروں کی جانب سے جنین اسپتال سے ایک اسرائیلی دروز نوجوان کی لاش کے اغوا کے بعد اٹھایا گیا جو ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

مغربی کنارے کے تمام قصبوں اور دیہاتوں کے داخلی راستوں پر اسرائیل ایک انتباہی نشان لگاتا ہے جس میں اسرائیلیوں سے داخل نہ ہونے کو کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ "ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ اور ان کے خلاف ایک مجرمانہ اقدام " ہے۔

تاہم اسرائیلی اب بھی اسرائیلی بستیوں اور شہروں کے قریب کئی فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں میں جاتے ہیں جیسے نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ حوارہ، رام اللہ کے مغرب میں بلعین کا قصبہ، مشرقی بیت المقدس میں العیزریا کا قصبہ اور سلفیت اور الخلیل گورنریوں کے دیہات گاڑیوں کی مرمت کے لیے یہودی آباد کاروں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں