انسانی حقوق کی باربار پامالی، اسرائیل فوجی بٹالین کومغربی کنارے سے منتقل کرنے پرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی اور قانون کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے اس کے اہلکاروں کے خلاف متعدد خلاف شکایات سامنے آنے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے سے پریشانی کا باعث بننے والے یونٹ کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دے گی۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج "نیتزہ یہودا" بٹالین کو مغربی کنارے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بٹالین میں فوجیوں کی بھرتی اورعہدیداروں کے عہدوں کی تنزلی کے بعد یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے، خاص طور پر جب اس بٹالین نے ایک بزرگ فلسطینی نژاد امریکی کو قتل کیا تو اس پر اسرائیلی فوج کو غیرمعمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپ یش دین کے مطابق نیتزہ یہودا بریگیڈ میں 500 فوجی شامل ہیں اور 2010 کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے لیے تمام اسرائیلی فوجی یونٹوں میں سب سے زیادہ سزا یافتہ ہیں۔

حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوج نے حالیہ خلاف ورزیوں کے مرتکب فوجیوں کے خلاف تادیبی اقدامات کیے ہیں۔ منگل کے روزفوج نے اعلان کیا کہ ایک اور یونٹ کے ایک فوجی کو فوجی جیل میں 10 دن کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فوجی اہلکار پر ایک دوسرے اسرائیلی کا مذاق اڑاتے دیکھا گیا تھا اور اس نے مذاق اڑاتے ہوئے اس کی ویڈیو بنا لی تھی۔

یہ فوجی ان پانچ فوجیوں میں سے ایک تھا جنہیں مغربی کنارے میں فوجی قبضے کی مخالفت کرنے والے اسرائیلی کارکنوں کے ساتھ تصادم میں داخل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ فوجی ایک ویڈیو کلپ میں اسرائیلی کارکن کو متنبہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے کہ اگلی اسرائیلی حکومت بشمول دائیں بازو کے کنیسیٹ کے رکن ایتمار بن مغربی کنارے میں سرگرم کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی۔ اس سپاہی کا کہنا تھا کہ "بین گویر یہاں حکم نافذ کریں گے سپاہی نے کہا۔ تم ہار گئے۔"

قابض اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف اویو کوچاوی نے فوجیوں کو ایک عوامی خط جاری کیا جس میں انہوں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد طاقت کے ناجائز استعمال کے چند واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کوچاوی نے اپنے خط میں لکھا کہ "اس طرح کے واقعات اس یونٹ کے نام کو بدنام کرتے ہیں جس میں سپاہی خدمات انجام دیتا ہے۔ ایسے واقعات اسرائیلی فوج اور اسرائیل کی ریاست کی بدنامی کا بھی موجب بنتے ہیں"۔

بین گویرجو سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے قائم ہونے والی نئی حکومت میں داخلی سلامتی کے وزیر بننے کی توقع رکھتے ہیں نے اسرائیلی فوجی کے خلاف اٹھائے گئے تادیبی اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں وہ فوجی کے والد کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے تمسخر اڑانے والے فوجی کو دی جانے والی سزا کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

بین گویر نے کہا کہ "ہم انتشار پسندوں کو اپنے بہادر فوجیوں کی توہین کرنے، ان پر تھوکنے اور ان پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہمارا کام اپنے فوجیوں کی حمایت کرنا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں