ایران کے سنی اکثریتی صوبے میں بھی خواتین سڑکوں پر نکل آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے جنوبی صوبے سیستان بلوچستان کی خواتین نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا حصہ بننا شروع کر دیا ہے، اس کا اظہار جمعہ کے روز سامنے آیا ہے۔ اس علاقے میں عورتوں کا احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کی روایت نہیں ہے۔

لیکن یہ تقریبا پہلا موقع ہے کہ اس علاقے کی خواتین بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ان مظاہروں کے سلسلے میں منظر عام پر آنے والی آن لائن ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ درجنوں خواتین زاہدان کی سڑکوں پر بینرز اٹھائے کھڑی تھیں۔ جن پر عورت، زندگی، آزادی تحریر تھا۔ یہ نعرہ 16 ستمبر سے شروع کی گئی تحریک کا سب سے بنیادی نعرہ بن چکا ہے۔

خواتین خواہ باحجاب یا بے حجاب انقلاب کی طرف

تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس میں شریک عورتیں چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ ایران مظاہروں سے لرز اٹھا جو کہ بائیس سالہ کرد ایرانی لڑکی مھسا مینی کی زیر حراست ہونے والی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

اوسلو میں قائم غیر سرکاری تنظیم ' ایران انسانی حقوق' کے اعداد و شمار کے مطابق سیکورٹی فورسز نے اب تک تقریبا 448 مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق سیستان بلوچستان سے ہے۔

آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر محمود امیری مغدام نے زاہدان میں ہونے والے مظاہروں میں خواتین کی شرکت کو نایاب قرار دیا ہے۔ اس سے قبل پچھلے دو ماہ کے دورانیہ میں صرف ان مظاہروں مردوں کو مظاہروں میں شرکت کرتے دیکھا گیا تھا۔ محمود امیری کے مطابق ایران میں جاری یہ احتجاجی مظاہرے وقار کے انقلاب کا آغاز ہیں۔

ان کا کہنا تھا عورتوں اور اقلیتوں کو ان مظاہروں نے بااختیار بنا دیا کہ وہ اب اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرسکیں۔

سنی سیستان بلوچستان کا شمار ایران کا غریب ترین خطہ ہے۔ جس کے بلوچ باشندے امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ آئی ایچ آر کے مطابق سیستان بلوچستان میں کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک 128 لوگ مارے جاچکے ہیں جو کہ 31 میں سے 26 صوبوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد میں دوسرا نمبر کردستان کا سنی اکثریتی صوبہ ہے جو کہ عراق کے ساتھ ایران کی مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اور امینی کا آبائی صوبہ بھی ہے۔ کردستان مظاہروں کا ایک اہم مرکز ہے اور یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 53 ہے۔

ایران نے اپنے دیرینہ دشمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں برطانیہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے۔

ایک ایرانی جنرل کے مطابق اب تک 300 سے زیادہ لوگ بدامنی کے نتیجے میں مارے گئے ہیں۔

عدالتی حکام کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں ایرانیوں اور تقریبا 40 غیر ملکیوں کو بدامنی کے الزام میں اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے اور 2000 سے زائد افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں