لبنانی پارلیمنٹ میں صدر کے انتخاب پر ڈیڈ لاک برقرار، اجلاس آٹھویں بار ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات یکم دسمبر کو لبنانی پارلیمنٹ آٹھویں بار صدر کے انتخاب میں ناکام رہی۔صدر کا عہدہ ایک ماہ سے خالی ہونے کے باوجود لبنانی پارلیمنٹ نئے صدر کے انتخاب میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ لبنان میں ایک طرف سیاسی انارکی پائی جا رہی ہے دوسری طرف ملک بدترین معاشی بحران کا سامنا کررہا ہے۔

لبنانی پارلیمنٹ کے 52 ارکان نے وائٹ پیپر کے ساتھ ووٹ دیا جب کہ رکن پارلیمنٹ مشیل معوض جنہیں سمیر جعجع کی قیادت میں لبنانی فورسزپارٹی کی حمایت حاصل ہے اور دروز کے رہ نما ولید جمبلات کے بلاک سمیت دیگر بلاکس نے 37 ووٹ حاصل کیے۔

حزب اللہ سمیت بڑے بلاکس جو کہ سب سے نمایاں سیاسی اور عسکری قوت ہے معوض کی مخالفت کرتے ہیں۔ معوض کوامریکیوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ مقابلے میں انہیں ایک "چیلنج" امیدوار کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

سیشن کے آغاز میں لبنانی فورسز پارٹی کے رکن انٹنی حبشی نے ہر انتخابی اجلاس میں ایک ہی منظر نامے کو دہرانے پر تنقید کی جو "ایوان کو اس کے کردار سے باہر کر دیتا ہے۔"

پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری نے "بلاک کے سربراہان اور ارکان کو اپنے فرائض ادا کرنے اور آئین کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر رہنے کی کی ضرورت پر زور دییا۔"

سیاسی اور فرقہ وارانہ قوتوں کے درمیان معاہدے اور کوٹے کا نظام عام طور پر اہم فیصلوں میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ چاہے حکومت کی تشکیل ہو یا صدر کا انتخاب ہو۔

سپیکر نے پارلیمنٹ کا اجلاس اگلی جمعرات تک ملوتی کر دیا۔

ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں امیدوار کو جیتنے کے لیے دو تہائی اکثریت یا 86 ووٹ درکار ہیں۔ مطلوبہ اکثریت میں دوسرے اجلاس میں 128 میں سے 65 ووٹ بنتے ہیں، جو کہ پارلیمنٹ کے اراکین کی تعداد ہے۔

ہر ہفتے کی طرح پہلا اجلاس دو تہائی اکثریت کی موجودگی کے ساتھ منعقد ہوا۔دوسرے اجلاس میں اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ختم کردیا گیا۔ اجلاس میں زیادہ ترغیرحاضر رہنے والے ارکان میں حزب اللہ اور اس کے اتحادی تھے جن پر صدارتی الیکشن کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس اپنا امیدوار کامیاب کرنے کے لیے پارلیمانی اکثریت نہیں ہے۔

صدر کے انتخاب میں پارلیمنٹ کی اب تک کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتخابی عمل میں کافی وقت لگ سکتا ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں آئینی تاریخ کا شاذ و نادر ہی احترام کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں