نیتن یاہو نے نئی حکومت میں "مذہبی صیہونیت" کو شامل کرلیا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی نے جمعرات کو کہا ہے کہ نامزد اسرائیلی وزیر اعظم نے انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صہیونی پاور پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کا معاہدہ کیا ہے تاکہ اسرائیل میں گذشتہ ماہ ہونے والے کنیسٹ کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے قریب پہنچا جا سکے۔

لیکوڈ نے وضاحت کی کہ مذہبی صہیونی پارٹی کو دیگر محکموں کے ساتھ ساتھ باری باری وزارت خزانہ کا کنٹرول بھی دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ تبدیلی کیسے ہوگی؟۔

بزلئیل سموٹریچ نے نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ"آج ہم ایک یہودی، صیہونی اور قومی حکومت کے قیام کے لیے ایک اور تاریخی قدم اٹھا رہے ہیں جو سلامتی کو بحال کرے گی اور یہودی بستیوں کو وسعت دے گی۔"

اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ مذہبی صہیونی پارٹی کے رہ نما بزلئیل سموٹریچ ابتدائی طور پر وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ اس کے بعد باری کے مطابق کوئی دوسرا شخص یہ عہدہ سنھبالے گا۔

نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے بلاک نے اپنے انتہائی آرتھوڈوکس اور انتہائی دائیں بازو کے یہودی اتحادیوں کے ساتھ کنیسٹ سیٹوں کی اکثریت حاصل کی تھی۔ اس طرح انہوں نے 120 رکنی پارلیمنٹ میں سے 64 نشستیں حاصل کیں۔ سینٹرسٹ یائر کی قیادت میں حریف کیمپ لیپڈ 54 نشستیں حاصل کرپائے تھے۔

لیکوڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذہبی صہیونی جماعت جو فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت سمجھی جاتی اور اسرائیلی بستیوں کی حمایت کرتی ہے، مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں پر بھی اختیار رکھے گی لیکن یہ نیتن یاہو کے ساتھ ہم آہنگی میں ہوگا۔

اس معاہدے میں "مذہبی صیہونیت" کو امیگریشن اور جذب کی وزارت اور وزارت قومی مشن (ایک نئی بنائی گئی وزارت) بھی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ "مذہبی صیہونیت" کا ایک عہدیدار کابینہ میں وزارت دفاع کا عہدہ بھی سنبھالے گا، جس میں وہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے امور کا ذمہ دار ہوگا اور نامزد وزیر اعظم کے ساتھ ہم آہنگی اور معاہدے کے ساتھ کام کرے گا۔

پارٹی کو نائب وزیر کا عہدہ بھی ملے گا اور آئین و قانون کمیٹی اور مذہبی خدمات کمیٹی کی سربراہی بھی ملےگی۔ پارٹی کا ایک عہدیدار دائیں بازو کی جماعتوں کے وژن کے مطابق عدالتی نظام میں اصلاحات کے منصوبوں کا ذمہ دار بھی ہوگا۔

"مذہبی صیہونیت" پارٹی نے کنیسٹ کے موجودہ اسپیکر کو تبدیل کرنے پر اتفاق کیا جو گذشتہ کن کیسٹ سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں