سائبر سپیس کو مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے: ایرانی پبلک پراسیکیوٹر

منتظری نے ورلڈ وائڈ ویب کی گائیڈ کی وضاحت کو "ثقافتی حملہ" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی نیوز ایجنسی ’’ اسنا‘‘ کے مطابق ایرانی پبلک پراسیکیوٹر محمد جعفر منتظری نے ملک میں مظاہروں کے جاری رہنے پر ورچوئل سپیس کو مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

منتظری نے کہا ہے کہ آج میں انٹرنیٹ کی فلٹرنگ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ہمیں ورچوئل سپیس کو مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے، لیکن یہ وہ چیز ہے جسے سسٹم کے اعلیٰ حکام نے منظور نہیں کیا اوریہ کرنا آج ممکن نہیں ہے۔

منتظری نے کہا کہ سابق حکومت کی سب سے بڑی خیانت یہ تھی کہ اس نے سائبر سپیس کے حوالے سے سپریم لیڈر کے احکامات کی حکم عدولی کی تھی، رہبر معظم کی جانب سے ورلڈ وائڈ ویب کو ثقافتی حملہ قرار دیا گیا تھا ۔ انہوں نے حسن روحانی کی حکومت پر سائبر سپیس میں سستی برتنے کا الزام لگایا۔

دریں اثنا ایران میں جمعہ کو ہزاروں بلوچوں نے اپنے رہنما مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جس کا جواب ایرانی سیکورٹی فورسز نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی صورت میں دیا۔

جمعہ کے روز ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں خواتین نے مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں وسیع پیمانے پر شمولیت اختیار کی۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا کہ قدامت پسند علاقے میں اس طرح خواتین کا نکل آنا نایاب ہے۔

انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں صوبائی دارالحکومت زاہدان میں درجنوں خواتین کو دکھایا گیا جنہوں نے ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے سب سے نمایاں نعروں میں سے ایک نعرے "عورت، زندگی، آزادی" کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔

ٹویٹر پر گردش کرتی ایک ویڈیو کے مطابق چادر اوڑھے خواتین نعرہ لگارہیہیں، "پردہ کے ساتھ یا اس کے بغیر، چلو انقلاب کی طرف چلتے ہیں"۔

پورے ایران میں مختلف گروہوں کے ایرانی شہریوں نے تین دن تک ہڑتالوں اور احتجاج میں شامل ہونے پر آمادگی کا اعلان کردیاہے۔ کئی اداروں نے بھی 5، 6 اور 7 دسمبر کو ان احتجاجی تحریکوں کی حمایت کے لیے ان میں شمولیت کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ 7 دسمبر ایران میں طلبہ کا دن ہے اور یہ ہمیشہ احتجاج کا موقع رہا ہے۔

ایران سے آنے والی اطلاعات کے مطابق عوامی بغاوت کے دوران ایرانی حکومت کے ظالم عناصر نے بہت سے واقعات میں زخمی مظاہرین کے علاج میں بھی خلل ڈالا ہے۔ ان فورسز نے بہت سے زخمی مظاہرین کے علاج کی اجازت دینے سے انکار کئے رکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں