شام کو ایرانی تیل کی ترسیل جاری ، ایک اور جہاز تیل لے کر شام پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران تیل بردارجہاز 'لانا' نے جمعہ کے روز شام میں تیل کی فراہمی کی ہے۔ ایران شام کو باقاعدگی کے ساتھ اور مسلسل تیل فراہم کر رہا ہے۔ شام ان دنوں توانائی کے بھی بحران کا شکار ہے۔ تیل کی ضروریات کے لیے اس کا بڑا انحصار ایران پر ہے۔

ایران کے اسی ' لانا ' نامی آئل ٹینکر کو اس سے قبل امریکہ کی طرف سے قبضے میں لیا گیا تھا۔ تاہم اس پر موجود تیل امریکہ نے اتار کر اپنے ہاں منگوا لیا تھا اور جہاز یونان کی مرضی کے حوالے کر دیا تھا۔

ایک جہاز ٹریکر نے بتایا ہے کہ ان اطلاعات کے سامنے آنے سے اس تیل بردار جہاز کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی ختم ہو گئی ہے۔ کئی مہینوں سے ایرانی جہاز کے بارے میں بے یقینی پائی جاتی تھی کہ وہ کہاں ہے اور کس کے کنٹرول میں ہے۔ مئی میں آئل ٹینکرز لانا ایرانی فورسزاپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ جنہیں بعد ازاں 16 نومبر میں چھوڑ دیا گیا۔

سیٹلائٹ سے جڑے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 'لانا 'نے تقریبا 700000 بیرل تیل شامی بندر گاہ بانیاس پراتارا ہے۔ ٹریکر کے مطابق 'لانا ' کو آخری بار 20 نومبر کو شام کی ایک بندرگاہ کے نزدیک دیکھا گیا تھا۔

ایرانی جوہری امور پر نظر رکھنے کے لیے موجود بحری جہاز پر موجود امریکی ایڈوکیسی گروپ کے چیف آف سٹاف کلئیر جنگ مین نے شام کے لیے ایرانی تیل بردار جہاز کی اہمیت یہ ہے کہ اس ذریعے سے خطے میں ایران اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایرانی رجیم اپنی بقا کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔ '

تاہم اس بارے میں جب شامی بندرگاہ سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی گئی تو بتایا گیا کہ بندرگاہ سے متعلق دفتر کا عملہ چھٹی کے مقررہ وقت کے بعد جواب نہیں دیتا ہے۔

واضح رہے شام میں توانائی کے بڑھے ہوئے مسائل کی وجہ سے کچھ عرصے تیل کی راشننگ چل رہی ہے۔ اس وجہ سے شام میں الیکٹریسٹی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لیے ایران سے شام کے لیے تیل کی فراہمی لگاتار ہوتی ہے مگر اس کی مقدار میں فرق آتا رہتا ہے۔

ایک جائزے کے مطابق شام نے ماہ نومبر میں ایران 1،39 ملین بیرل تیل منگوایا ہے۔ یہ اکتوبر میں ملنے والے ایرانی تیل کے مقابلے میں کم ہے۔ ماہ اکتوبر میں 3،5 ملین بیرل تیل ایران سے شام پہنچا تھا جبکہ ماہ ستمبر میں اس تیل کی مقدار 3،7 ملین بیرل کا تخمینہ ہے۔

امریکہ نے ایرانی جہاز 'لانا ' کو قبضے میں لانے کے بعد اس سے تیل اتار کر اپنے استعمال میں لانے کے لیے اپریل میں ہی کرائے پر ٹینکر میں لے رکھا تھا۔

جسے بعد ازاں یونانی سپریم کورٹ میں معاملہ آنے سے پہلے پہلے اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے بہت پہلے امریکہ بھجوا دیا گیا تھا۔ کیونکہ خطرہ تھا کہ یونانی سپریم کورٹ ایران کے حق میں فیصلہ کر سکتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی ایرانی تیل کو تحکانے لگا لیا گیا ۔

جبکہ ایرانی بحری جہاز 'لانا ' دو ماہ تک یونانی جزیرے میں بند رکھا گیا۔ بعد ازاں بالکل امریکی اندازے کے مطابق ہوا یونانی عدالت نے ایرانی بحری جہاز کو چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔ اگر امریکی حکام اس کے تیل کے سلسلے میں فوری اقدامات نہ کرتے تو تیل سمیت ایرانی جہاز کو واپس کرنا پڑتا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں