’داعشی دلہن‘ کے بارے میں اس کے قیدی شوہر کے چونکا دینے والے بیانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

شمیمہ بیگم جنہیں جسے "داعش کی دلہن" کہا جاتا ہےخبروں میں رہنے کے بعد اب ان کے شوہر بھی سامنے آئے ہیں۔ داعشی دلہن کے شوہر’داعشی دلہا‘ کا کہنا ہے کہ ان کی شادی خوش آئند تھی اور انہوں نے شام میں ان کے درمیان خاندانی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے "ایک ساتھ کھانا اور مٹھائیاں تیار کرنے" میں ایک طویل وقت گذارا۔

’ڈیلی میل‘ کی طرف سے شائع کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق داعشی دلہے کا کہنا ہے کہ اس کا موقف شمیمہ بیگم کے برطانوی شہریت کے حصول کی کوشش سے مختلف ہے۔

خیال رہے کہ داعشی دلہن کا شوہر’ریڈیک‘ اس وقت شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسزکی قید میں ہے

مشرقی لندن میں بیتھنل گرین اکیڈمی میں فرسٹ کلاس کی طالبہ شمیمہ بیگم نے فروری 2015 میں دو سہیلیوں کے ساتھ برطانیہ چھوڑا۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ شام میں ماری گئی ہیں۔وہاں ایک ڈچ جنگجو ’یاگو ریڈیک‘ نے اسلام قبول کیا اور داعش میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت اس کی عمر 23 سال کی تھی۔ وہ داعش کے ساتھ لڑتے ہوئے زخمی ہوا۔ تب وہ پندرہ سالہ شمیمہ بیگم کے ساتھ شادی کرچکا تھا۔

"ٹھوس ثبوت‘‘

شمیمہ بیگم نے چار سال شام میں گذارے۔ اس دوران اس کے شوہر ریڈیک سے اس کے تین بچے پیدا ہوئے۔ان میں سے دو بیماری یا غذائی قلت کی وجہ سے مر گئے اور تیسرا جو مغربی حمایت یافتہ افواج کے قبضے کے بعد پیدا ہوا نمونیا کی وجہ سے فوت ہوگیا۔ شمیمہ بیگم کے وکلاء نے گذشتہ ہفتے ان کی شہریت سے محرومی کے خلاف ایک اپیل میں کہا تھا کہ اس بات کے "ٹھوس" ثبوت موجود ہیں کہ اس گروپ نے شمیمہ کا جنسی استحصال اور اپنے کسی مرد سے شادی" کے مقصد سے اس کی اسمگلنگ کی تھی۔

وکیل نک اسکوائرز نے اپنی موکلہ کی برطانوی شہریت بحال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں کہا کہ یہ گروپ 14 سال تک کی لڑکیوں کو بھرتی کرنے اور جنگ کے لیے تیار کرنے کے ایک معروف انداز پر عمل کر رہا تھا تاکہ انہیں بالغ مردوں کے سامنے بیوی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ داعش نے جان بوجھ کر کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے بھرتی کیا کیونکہ انہیں "بچے پیدا کرنے کی ضرورت تھی جو اس کے ریاستی تعمیراتی منصوبے کی ایک اہم خصوصیت تھی۔"

شادی کے لیے عام حالات

تاہم شمالی شام میں حراست سے ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے ریڈیک نے عمر کے فرق کے بارے میں پوچھے جانے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر میں شادی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا اور میرا ایک دوست میرے پاس آیا اور کہا کہ ایک بہن ہے جو پارٹنر کی تلاش میں ہے۔ کیا آپ دلچسپی رکھتے ہیں؟ اس نے کہا کہ 'میں اپنے دوست کو پرپوز کرنے پر راضی ہو گیا ہوں۔' ’داعشی جنگجو‘ نے بیان کیا کہ وہ شمیمہ بیگم کے ساتھ کیسے بیٹھا "ہم نے بات کی اور شادی کی شرائط پر اتفاق کیا۔" اس نے کہا کہ حالات واقعی کوئی بڑی یا کوئی اہم چیز نہیں تھی۔ یہ چھوٹی چیزیں تھیں جیسے باہر خریداری کرنا یا اس طرح کا کوئی اور کام کرنا "۔ .

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ریڈجک نے کہا کہ " شمیمہ نے کچھ آزادی مانگی جو میں نے اسے دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ شاپنگ پر جانا۔ اس کے دوستوں کو دیکھنا، بہت بنیادی چیزیں تھیں۔ ہم نے جہیز پر اتفاق کیا۔ اس نے مجھ سے جہیزمیں قرآن کا انگریزی ترجمہ مانگا جس پر میں نے اتفاق کیا۔"

ریڈیک نے کہا کہ"میں نے ایک گھر تلاش کیا۔ میں اپنے ایک دوست سے ملا۔ اس نے اپنے گھر میں ساتھ رہنے کی پیشکش کی اور ہم اندر چلے گئے۔ ہمیں کچھ چیزیں مل گئیں اور یہ شادی کی شروعات تھی۔"

ریڈیک 2014 کے آخر میں عین العرب یا جسے "کوبانی" کے نام سے جانا جاتا ہے میں کرد فورسز کے خلاف ایک خونریز لڑائی میں شامل تھا۔ وہ اس جنگ میں زخمی ہوگیا اور اب کرد فورسز کی قید میں ہے۔ اس نے کہا کہ "یہ ایک قتل عام تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اسے کس طرح بیان کروں۔ وہاں داعش کے بہت سے جنگجو مارے گئے تھے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’آئی ایس آئی ایس‘ میں ان کی بٹالین کے کچھ ارکان جسے سیف الدولہ کہا جاتا ہے نے جانے سے انکار کر دیا اور انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ ریڈیک نے مزید کہا کہ جب اس نے شمیمہ بیگم سے شادی کی تو وہ "صحت یاب ہو رہے تھے اور جسمانی علاج سے گزر رہے تھے"۔

میں اپنی شادی میں خوش تھا

"ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق شمیمہ بیگم کے داعشی شوہر نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی شادی نہیں کی تھی، یہ ایک تجربہ تھا۔ پہلی بار کسی کے ساتھ رہنا، شروع سے کسی کو جاننا، پھر سے یہ ایک تجربہ تھا"۔

یہ پوچھنے پر کہ کیا وہ خوش ہیں؟ ریڈیک نے انٹرویو لینے والے ڈائریکٹر ایلن ڈنکن کو بتایا کہ "میں اس وقت خوش تھا۔ بیگم نے اپنے خاندان سے رابطہ رکھا لیکن مجھے یاد نہیں کہ وہ انہیں اکثر فون کرتے تھے۔ میں زیادہ بار فون کرتا تھا۔ ان کی شادی کا مرحلہ مختصر تھا کہ ہم صرف 10 دن اکٹھے رہے اور 10 دن کے بعد مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ تنظیم نے مجھ پر جاسوس ہونے کا الزام لگایا۔ اس نے انکشاف کیا کہ شمیمہ حاملہ ہوگئی تھیں۔ میں نہیں جانتا تھا اور نہ ہی وہ جانتی تھی۔ مجھے اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے سے روکا گیا، حالانکہ میرا گھر جیل سے صرف 150 میٹر کے فاصلے پر تھا۔"

اس نے بات کرجاری رکھتے ہوئے کہا کہ کہ وہ مجھ سے ملنے آئی تھی اور میرا دوست اسے لے کر آیا تھا لیکن انہوں نے مجھے کسی ملاقاتی سے ملاقات سے روک دیا۔ ریڈ جیک کا کہنا ہے کہ جب مجھے بالآخر رہا کیا گیا تو میں نے رقہ میں خود کو داعش سے دور کر لیا۔ میں بیگم کے ساتھ رہ رہا تھا۔ بہت سارے لوگ میرے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر لوگ کہتے کہ میں ایک جاسوس اور گندا انسان ہوں۔ میں نے ان سے دور رہنا شروع کر دیا۔ عرب کمیونٹی کے ساتھ گھومنا شروع کر دیا جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اپنی رہائی کے بعد تھوڑی دیر کے لیے انہوں نے نسبتاً معمول کی زندگی گذاری۔ ہم نے زندہ رہنے اور پیسے کمانے کے لیے کیک بنانا اور بازار میں کیک بیچنا شروع کر دیا۔

ہم زندہ رہنے کے لیے کام کرنے اور پیسے کمانے لگے

ریڈجیک نے کہا کہ"میں زیادہ تر چیزیں تیار کرتا تھا۔ ہم نے اس میں سے کچھ ایک ساتھ کام کیا لیکن میرے خیال میں اس وقت وہ حاملہ تھی۔ وہ بنیادی طور پر بچوں کے ساتھ تھی۔ ہمارا دوسرا بچہ ہوا جس کا نام جراح رکھا گیا۔

گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ کچھ خوبصورت دن گزرے۔ کچھ اچھی یادیں رہیں۔ تاہم بیگم کی طرح ریِڈجک نے گلیوں میں لاشیں دیکھنے کی بات کی جو داعش کے ہاتھوں مارےگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات وہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے لاشیں وہاں پھینک دیتے۔ بعض اوقات وہ وہاں سے گزر جاتے ہیں لیکن اس نے کہا کہ شامی رجیم اور اتحادی فوج کی بمباری کے نتیجے میں رقہ میں موت کا رقص جاری تھا۔ ہم لوگوں کو ہر وقت ملبے کے نیچے سے نکالتے۔ یہ مشکل مرحلہ تھا لیکن بدقسمتی سے آہستہ آہستہ آپ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔"

'داعش کی کارروائیوں پر تبصرہ نہیں کر سکتا'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے سوچا کہ اس نے غلطی کی ہے تو ریڈیک نے جواب دیا کہ "میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔" انہوں نے مزید کہا کہ سچ کہوں تو یہ ایک ایسی جنگ ہے جہاں لوگ مارے جاتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہر طرف سے لوگ مارے جاتے۔ حکومت، فری سیرین آرمی، داعش۔ ہر طرف سے جیلوں کے باہر لوگ مرتے ہیں یا مارے جاتے ہیں۔ "

رِیڈیک کہا کہ اب بھی بیگم کے ساتھ اپنی زندگی کو دوبارہ بنانے اور مزید بچے پیدا کرنے کی امید رکھتا ہوں۔ اس وقت وہ کیمپ میں ماؤں، گھریلو خواتین اور تجربہ کار خواتین کے درمیان ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ ہماری آنے والی زندگیوں کے لیے بہتر ثابت ہوگی۔ ہم دوبارہ ایک خاندان کی شکل میں رہ سکتے ہیں۔"

برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ فروری 2019 میں جب شمیمہ کی شہریت منسوخ کی گئی تھی تو بیگم خطرہ تھی اور وہ اب بھی خطرہ ہیں۔ سکیورٹی سروس نے اندازہ لگایا کہ شمیمہ بیگم کا شام کا سفر رضاکارانہ تھا اور سفر سے پہلے اور اس کے دوران ان کی سرگرمیاں داعش میں شمولیت کے لیے "عزم اور ارادے" کا اظہار کرتی ہیں۔

ایک برطانوی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ داعش میں بھرتی ہونے والی خواتین میں انتہا پسندانہ رجحانات تھے۔انہوں نے داعش کے تسلسل میں کردار ادا کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے فوجی تربیت حاصل کی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں