ایران:مظاہروں کی حمایت کرنے پر 115 فوجی اہلکار گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران انٹرنیشنل چینل کے مطابق مہسا امینی کے قتل کے بعد سے ملک بھر میں پھیلنے والے مظاہروں کی حمایت کرنے پر ایرانی حکام نے فوج کے 115 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا تھا کہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں بچوں سمیت 14,000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

’اوسلو‘ میں قائم ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اب تک کم از کم 448 مظاہرین کو ہلاک کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر سیستان بلوچستان میں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر جنوب مشرقی ایران میں واقع ہے۔

سرکاری اعتراف

ایران میں حکام نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ ستمبر کے وسط میں کردخاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے بعد شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں 200 سے زیادہ افرادہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارناکے مطابق وزارتِ داخلہ کی ریاستی سلامتی کونسل کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان ہلاکتوں میں سکیورٹی فورسز،عام شہری، فسادی اورحکومت مخالف مسلح عسکریت پسند شامل ہیں۔

ایرانی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد جاری کی گئی ہے۔اس سے چند روز قبل سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیرکمانڈر بریگیڈیئرجنرل امیرعلی حاجی زادہ نے کہا تھا کہ مظاہروں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایرانی حکام انھیں ’فسادات‘ قرار دیتے ہیں۔

ریاستی سلامتی کونسل اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے فراہم کردہ اعدادوشمار انسانی حقوق کی تنظیموں کی بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد سے کہیں کم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہروں میں 400 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس گروپ (آئی ایچ آر)کے مطابق ایرانی سکیورٹی فورسز نے ستمبرکے وسط میں کردخاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے ردعمل میں شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں 448 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ان میں 60 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ان میں 9 لڑکیاں اور29 خواتین شامل ہیں۔

اس نے ایک حالیہ رپورٹ میں کہاہے کہ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں سے 12کردآبادی والے علاقوں میں مارے گئے ہیں جہاں مہساامینی کی موت کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس میں مزیدکہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران میں مزید ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے اوراس طرح کل ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس تعداد میں صرف کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والے شہری شامل ہیں اورسکیورٹی فورسز کے ارکان شامل نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں