ایران : یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد ہونے کےبعدجوہری توانائی کےنئے منصوبے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے نئے جوہری توانائی منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ دو ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوگا اورجنوبی مغربی صوبے خوزستان کے شہر درخوین ضلع میں شروع کیے جانے کی تیاری ہے۔ ایران نے 2015 کا معاہدہ معطل ہونے کے بعد اپنے فوردو جوہری پلانٹ کے ذریعے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا حصول بھی ممکن بنانا شروع کر رکھا ہے۔

ایرانی جوہری شعبے کے سربراہ محمد اسلامی نے اس نئے منصوبے کی شروعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ منصوبہ سات سال میں مکمل ہوگا اور اس سے 300 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

محمد اسلامی کے بقول '1979 سے قبل اسی جوہری توانائی منصوبے کو فرانس نے لگانا اور مکمل کرنا تھا۔ لیکن ایران میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد فرانس اس منصوبے میں مدد دینے اور اپنے معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ بعد ازاں ایران پر عائد کر دہ پابندیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ آگے بڑھانے کے لیے کوئی ملک تعاون کو تیار نہ ہوا تھا۔ '

انہوں نے کہا 'اب ایران نے اپنا یہ منصوبہ کود شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2015 کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے یہ طے پایا تھا کہ ایران یورینیم افزودہ کر سکے گا اور اس کی حد 3،67 فیصد ہو گی۔ اس معاہدے کے تحت ان ملکوں کا خفیہ مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کےحصول سے روکنا تھا۔ واضح رہے حالیہ عرصے میں ایران اس امر کا انکار بھی کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔'

محمد اسلامی کے مطابق ' 2018 کو امریکی صدر نے کی وجہ سے وہ جوہری معاہدہ بھی معطل ہو گیا۔ ٹرمپ نے امریکہ نے اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرنے کا اعلان کر دیا۔ '
ایران جوہری شعبے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ' تب سے ایران نے اپنے فوردو پلانٹ کو فعال بناتے ہوئے اس سے یورینیم کی افزودگی کی سطح بہتر کر لی۔ جو کہ 60 فیصد کر لی گئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2015 کے معاہدے کی بحالی کے لیے 2021 سے دوبارہ گفتگو شروع ہوئی مگر حالیہ مہینوں میں یہ بھی روک دی گئی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں