عراق، شام اور یمن میں "حزب اللہ کی کلوننگ" روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی اخبار "دی یروشلم پوسٹ" نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایویو کوچاوی نے شام، عراق اور یمن میں نئی "حزب اللہ" کی تشکیل روکنے کے بارے میں کیا کہا ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے ایک آپریشن کا انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اس وقت عراق اور شام میں "دو جنگوں کے درمیان جنگ" کے نام سے کام کر رہا ہے، جس کا مقصد عراق اور شام میں ایک اور حزب اللہ کے آغاز کو روکنا ہے۔ "

معلومات میں اسرائیل کے عراق اور شام دونوں میں "ایرانی اہداف" کے خلاف "حملے" کرنے کے بارے میں بات بھی شامل تھی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کا اثر شام میں البوکمال کے قریب امام علی کے فوجی اڈے تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ میں اسے "ایرانیوں کے آپریشنز ہیڈکوارٹر" قرار دیا ہے۔

ایجنسی نے اپنی رپورٹ کے ذریعے مزید کہا ہے کہ "حزب اللہ کی 1999ء اور 2005ء کے درمیان طاقت سے دوگنا ہو گئی ہے، کیونکہ اب وہ سیاسی اور اقتصادی طور پر لبنان پر مکمل کنٹرول میں ہے۔ اسرائیل ہر گز نہیں چاہتا کہ حزب اللہ اب دوسرے عرب ملکوں میں اتنی طاقتور ہو اور خطے کے ممالک کو کنٹرول کرنے لگے۔

اخبار نے کوچاوی کے حوالے سے مزید کہا کہ "گذشتہ برسوں کے دوران حزب اللہ نے وسیع تجربہ حاصل کرنے اور اپنے ہتھیاراور آلات تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حزب اللہ شام، عراق اور یمن میں اپنی طاقت بڑھا رہی ہے۔

اخبار نے رپورٹ کا اختتام کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں عراق، شام، یمن اور دیگر علاقوں میں سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان میں ایران کے ساتھ دھڑے سرگرم ہیں۔ اسرائیل ایران کو شام کا حصہ حاصل کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

دو جنگوں کے درمیان جنگ

اخبار نے کہا کہ "اس وقت تک اسرائیل 'دو جنگوں کے درمیان جنگ' کی حکمت عملی کو بنیادی طور پر ایرانی اہداف پر فضائی حملوں کے ایک سلسلے کے ذریعے نافذ کر رہا تھا۔ اس سے ایران کی خطے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔ تہران ڈرون کی منتقلی کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے ہوائی اڈوں پر گودام بھی بنائے جہاں سے گولہ بارود لے جایا جاتا ہے اور البوکمال کے قریب عراق کی سرحد پر امام علی نامی اڈہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ""دو جنگوں کے درمیان جنگ" مہم کا عمومی طریقہ اور "حزب اللہ 2" کے ظہور کو روکنے کی کوشش واضح نہیں ہے۔ ایران کے شام میں ایجنٹ اور اثر و رسوخ ہیں اور اس نے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران اسرائیل کو ڈرونز سے براہ راست دھمکی دیتا ہے جیسا کہ امریکی قیادت کے اتحاد نے اس سال کے شروع میں اسرائیل کی طرف جانے والے ایرانی ڈرون کو مار گرایا اور انہوں نے مشرق میں امریکی افواج کو بھی نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں