ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سپین کی رائل نیوی کی طرف سے سعودی عرب کی شاہی بحریہ کے لیے تیار کردہ "ہز میجسٹی کنگ حائل" کے ماڈل "کورویٹ ایونٹی 2200" بحری جنگی کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز " ہز میجسٹی کنگ جبیل" اور "ہزمیجسٹی کنگ الدرعیہ" کے افتتاح اور ان جہازوں کی سعودی نیوی میں شمولیت کے بعد تیسرا جہاز ہے۔ اسے "سراوت پروجیکٹ" کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں 5 جنگی جہازوں کی تیاری شامل ہے۔

اسپانوی شہر سان فرنانڈو میں سعودی رائل نیوی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد الغفیلی نے سعودی اور اسپانوی حکام کی موجودگی میں جہاز کو نیوی میں شمولیت کے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اس پر جہاز پر مملکت کا پرچم لہرایا۔

انہوں نے اس موقعے پر منعقدہ پروقار تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ جہاز "سروات پروجیکٹ" کے تحت تیار کردہ بحری جہازوں میں سے ایک ہے، جس میں اعلیٰ صلاحیت اور استعداد کے ساتھ مختلف جنگی مشنوں سے نمٹنے کے لیے معیاری صلاحیتوں کے حامل 5 بحری جہازوں کی تیاری اور تعمیر شامل ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ بحری جہاز بحریہ کی حربی صلاحیت کی سطح کو بلند کرنے، خطے میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے اور مملکت کے اہم سٹریٹجک مفادات کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے سعودی قیادت کی طرف سے مسلح افواج بالخصوص بحریہ کے لیے تعاون کو سراہا۔

’سراوت پراجیکٹ‘ سعودی کمپنی فار ملٹری انڈسٹریز (SAMI) اور اسپانوی کمپنی Navantia کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ ہے۔ یہ شراکت داری منصوبہ 2030ء تک 50 فی صد فوجی صنعتوں کو مقامی بنانے کے مملکت کے وژن کے حصول اور نیوی کو فعال کرنے کے لیے بحری جنگی جہازوں کی فراہمی کا حصہ ہے۔

پراجیکٹ بحری جہاز تمام فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید ترین جنگی نظام کی خصوصیت رکھتے ہیں اور یہ دنیا میں اپنی نوعیت کے جدید ترین جنگی بحری جہاز ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں