ایران کا ایک بار پھرامریکہ پر مظاہروں کی حمایت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے اپنے اس الزام کی تجدید کی ہے کہ امریکا ان کے ملک میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کررہا ہے جو گزشتہ ستمبر میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ان کے ملک میں حالیہ مظاہروں کی حمایت کرتا ہے تاکہ تہران کو جوہری مذاکرات سے متعلق اپنے مطالبات کی تعمیل پر "مجبور" کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک ملک میں ہونے والے حالیہ واقعات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی شہروں میں دو ماہ سے زائد عرصے سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا ایران میں "تشدد کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے"۔

مظاہرے پھوٹ پڑے

ایران میں گذشتہ ستمبر سے مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ پولیس نے نوجوان خاتون مہسا امینی کو غلط طریقے سے اسکارف پہننے کے بہانے حراست میں لینے کے بعد قتل کر دیا، حالانکہ حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ امینی کو پولیس نے مارا تھا۔

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ احتجاجی مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 448 تک پہنچ گئی ہے جن میں 60 بچے بھی شامل ہیں۔

یہ مظاہرے گذشتہ دنوں کے دوران ملک بھر کے درجنوں شہروں میں ہوئے اور اب بھی جاری ہیں جن میں مختلف نسلوں اور طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ یہ مظاہرے سنہ 2019ء میں ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے بڑا احتجاج ہے۔ رائیٹرزکے مطابق سنہ 2019ء کےدوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں کریک ڈاؤن کے دوران 1500 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں